پاکستاناہم خبریں

وزیر داخلہ محسن نقوی متحرک کیان لیگ سے ’دوریاں‘ ختم ہو گئیں؟

منظر عام سے غائب ہونا اس وقت زیادہ واضح ہوا جب بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے دوران یا بعد میں وہ کسی بھی موقع پر نظر نہ آئے

(سید عاطف ندیم-پاکستان): پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تقریباً گذشتہ ایک مہینے سے ملکی سیاست سے غائب رہے ہیں۔ اس کی شروعات چیمپئنز ٹرافی کے فائنل سے ہوئی جب بطور چئیرمین پی سی بی محسن نقوی دبئی سٹیڈیم میں فائنل دیکھنے اور اختتامی تقریب میں شرکت کے لے نہ پہنچے۔
اس کے بعد ان کا منظر عام سے غائب ہونا اس وقت زیادہ واضح ہوا جب بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے دوران یا بعد میں وہ کسی بھی موقع پر نظر نہ آئے۔
جب اس عدم موجودگی کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہونے لگیں تو ذرائع سے یہ خبر چلوائی گئی کہ محسن نقوی بیمار ہیں اور دبئی میں زیرِعلاج ہیں۔ اس دوران حکومتی سطح پر کچھ تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پرویز خٹک کو داخلہ کا معاون خصوصی مقرر کر دیا۔ اور ان کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہے۔ اسی طرح طلال چوہدری کو وزارت مملکت داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ یوں ایک ہی وقت میں پاکستان کی وزارت داخلہ میں محسن نقوی سمیت تین وزرا ہو چکے ہیں۔
عید کے دنوں میں اس صورت حال میں کچھ بدلاؤ آیا اور محسن نقوی نے عید کے تیسرے روز نہ صرف وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی بلکہ جاتی امرا رائیونڈ میں مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اور وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز سے بھی ملاقات کی۔ ان دونوں ملاقاتوں کی تصاویر حکومت میڈیا سیل سے جاری کی گئیں۔
ان تصاویر پر سوشل میڈیا پر کئی طرح کے تبصرے دیکھنے کو ملے ہیں۔ اور زیادہ تر تبصرے وزیر داخلہ کی بدن بولی سے متعلق تھے۔ وزیراعظم سے ملاقات میں ان کے چہرے کے تاثرات تھوڑے سخت تھے اور انہوں نے ویسکوٹ نہیں پہن رکھی تھی۔ جبکہ نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات میں ان کے کپڑوں کے اوپر ویسکوٹ صاف دکھائی دے رہی ہے۔
پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟
یہ سب باتیں ایک طرف لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اصل میں ہو کیا رہا ہے؟ محسن نقوی کس ’پریشانی‘ میں مبتلا ہیں؟ اور نئی حکومت بننے کے ایک برس بعد ان کو باضابطہ طور پر نواز شریف اور وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز سے ملاقات کیوں کرنا پڑی؟ ان سارے سوالوں کے جواب اشاروں کنایوں میں تو موجود ہیں لیکن ’آن ریکارڈ‘ کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی سلمان غنی نے اس حوالے سے بتایا کہ ’بظاہر تو محسن نقوی بیمار تھے لیکن معاملہ اس سے زیادہ سنجیدہ تھا۔ میرے خیال میں انہیں اس بات کا شکوہ تھا کہ شائد ن لیگ ان سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہے۔ پھر نئے وزرا کی وجہ سے ان کی جگہ اور کم ہو گئی تھی۔ اس لیے وہ ایک دم پیچھے ہو گئے۔‘
’اب میرے خیال میں انہوں نے صورت حال کو نئے سرے سے دیکھا ہے اور کچھ پنچائتی کردار بھی ہوا ہے۔ جس کے بعد ان کی یہ ملاقاتیں سامنے آئی ہیں۔ جس سے لگ ایسے رہا ہے کہ ان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ اور یقیناً انہوں نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کو اعتماد میں لیا ہے جس سے ان کے اور ن لیگ کے درمیان خلیج کم ہو گی۔‘
کچھ روز پہلے سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اس موضوع پر ایک کالم لکھا تھا جس میں علامتی طور پر انہوں نے بتایا کہ جلد ہی نواز شریف اور محسن نقوی کی ملاقات متوقع ہے۔
سہیل وڑائچ نے یہ بھی لکھا کہ مریم نواز اور محسن نقوی کی ملاقات پہلے بھی ہو چکی ہے۔ نواز شریف سے ملاقات یہ فیصلہ کرے گی کہ محسن نقوی سیاسی طور پر کہاں کھڑے ہوں گے۔ مگر انہوں نے یہ ساری بات شیر، شیرنی اور عقاب کی تمثیلات کو استعمال کرتے ہوئے کہی۔
اب اس ملاقات کے ہونے جانے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے تو اپنے کالم میں پیشین گوئی کر دی تھی کہ یہ ملاقات ہو گی۔ اصل میں انتخابات کے بعد ن لیگ اور محسن نقوی کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا ایک برس گزر جانے کے باوجود ان کی نواز شریف یا مریم نواز سے کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔‘
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’یہ غلط فہمیاں کچھ زیادہ ہو گئیں تھیں جس کے تناظر میں یہ ملاقات ہوئی ہے، اور بظاہر لگ رہا ہے کہ وقتی طور پر فریقین کے درمیان برف پگھلی ہے۔ لیکن آئندہ وقت میں صورت حال واضح ہو گی کہ یہ وقتی طور پر تھا یا مستقل طور پر۔ اگر دیکھا جائے تو جب وہ پنجاب کے نگران وزیراعلٰی تھے اس وقت ان کے سب سے ہی اچھے تعلقات تھے۔ یہ جو کچھ ہوا ہے بعد میں ہوا ہے۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button