
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
قومی علمائے و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کے درمیان تعلق گہری بنیادوں پر قائم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تاریخی نوعیت کا حامل ہے۔
کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز مذہبی اسکالرز، صوفی مشائخ اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تمام مسلم ممالک میں خصوصی اعزاز عطا کیا ہے کہ وہ حرمین شریفین کا محافظ ہے۔ انہوں نے اسے پاکستانی قوم اور ریاست کے لیے ایک خاص ذمہ داری اور شرف قرار دیا۔
علم، محنت اور اتحاد پر زور
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "جو قوم علم کو ترک کر دیتی ہے، وہاں قلم کی جگہ انتشار اور فساد لے لیتا ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ عزت اور طاقت تقسیم سے نہیں ملتی بلکہ محنت، تعلیم اور مضبوط اجتماعی شعور ہی قوموں کو اوپر لے جاتا ہے۔
دہشت گردی، دفاع اور پاکستان کا اصولی مؤقف
خطاب کے دوران فیلڈ مارشل نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی بھارت کا راستہ ہے، پاکستان کا نہیں۔ ہم دشمن پر چھپ کر حملہ نہیں کرتے بلکہ اسے کھلا چیلنج کرتے ہیں اور شکست دیتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کے دفاع کے لیے پاکستان نے ہمیشہ اصولی موقف اختیار کیا ہے اور حق کی جنگ میں اللہ کی نصرت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔
جہاد کا اختیار صرف ریاست کے پاس
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلامی ریاست کے اندر جہاد کا حکم صرف ریاست ہی جاری کر سکتی ہے۔ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اصول نہ صرف پاکستان کے آئین بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی مطابقت رکھتا ہے اور قوم کی وحدت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
علمائے کرام کے کردار پر روشنی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علمائے کرام کو ملک کی فکری اور نظریاتی سمت کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہا کہ "علماء کو قوم کو متحد رکھنا چاہیے اور عوام کے نقطہ نظر کو وسیع کرنا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں امن، رواداری اور اتحاد کے فروغ میں علماء کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آخر میں قوم کے نام پیغام
اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے پرجوش انداز میں کہا:
"پاکستان زندہ باد!”
کانفرنس کے شرکاء نے خطاب کو سراہا اور قومی وحدت، علمی ترقی اور امن کے لیے کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔



