
سیلاب متاثرین کے لیے برطانوی نژاد پاکستانی بزنس مین کی ایک کروڑ روپے مالی امداد: وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات
"پاکستان میرا وطن ہے۔ یہاں کے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرنا میرا فرض ہے۔ یہ مالی امداد میری طرف سے ایک معمولی سی کوشش ہے ان خاندانوں کے لیے جو اس وقت آزمائش میں ہیں۔"
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) — وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانوی نژاد پاکستانی بزنس مین وسیم اسلم نے اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی، جس دوران وسیم اسلم نے حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد کا چیک وزیر داخلہ کو پیش کیا۔
یہ امداد ان ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اس وقت شدید موسمی حالات کے باعث بے گھر، بے سروسامان اور بے یار و مددگار ہو چکے ہیں۔ ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے وسیم اسلم کے جذبہ خیر سگالی اور قومی خدمت کے جذبے کو "قابل تقلید مثال” قرار دیا۔
وسیم اسلم کا انسان دوستی کا عملی مظاہرہ
وسیم اسلم، جو برطانیہ میں کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، عرصہ دراز سے مختلف فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے ان کا جذبہ، خصوصاً قدرتی آفات کے وقت، ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا:
"پاکستان میرا وطن ہے۔ یہاں کے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرنا میرا فرض ہے۔ یہ مالی امداد میری طرف سے ایک معمولی سی کوشش ہے ان خاندانوں کے لیے جو اس وقت آزمائش میں ہیں۔”
محسن نقوی: "حکومت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی”
وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
"پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی غیر معمولی سیلاب سے دوچار ہے، جس نے خاص طور پر خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، اور بنیادی انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔”
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت متاثرین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی اور ریلیف اور بحالی کے کاموں کو ہر ممکن حد تک تیز کیا جا رہا ہے۔ وسیم اسلم کی طرف سے دی گئی مالی امداد کو "وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ” میں شامل کیا جائے گا تاکہ اس کی تقسیم میں شفافیت اور بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوام اور اوورسیز پاکستانیوں سے امداد کی اپیل
محسن نقوی نے اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں اور ملکی مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ دل کھول کر متاثرین کی مدد کریں۔
"ہم سب کو مل کر ان لوگوں کا سہارا بننا ہے جن کے سروں سے چھتیں چھن گئیں، جن کے بچے بھوکے ہیں، اور جن کے گھر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں۔ وسیم اسلم جیسے افراد کی مثال ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ کیسے ہم اجتماعی طور پر ایک مصیبت زدہ قوم کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔”
فلڈ ریلیف سرگرمیاں جاری، مزید امداد کی ضرورت
حکومت کی جانب سے فوج، ریسکیو ٹیموں اور سول اداروں کے تعاون سے ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ خیمے، خشک راشن، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد کی فراہمی میں تیزی لائی گئی ہے۔ تاہم، متاثرہ علاقوں کی وسیع جغرافیائی وسعت اور تباہی کی شدت کو دیکھتے ہوئے امداد کی اشد ضرورت باقی ہے۔
نتیجہ: وسیم اسلم کی امداد، ایک حوصلہ افزا مثال
وسیم اسلم کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد نہ صرف ایک سخاوت کا عملی مظاہرہ ہے، بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی آج بھی اپنے وطن سے دل کی گہرائیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے اس اقدام سے دوسرے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی ترغیب ملے گی کہ وہ بھی آزمائش کی اس گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔



