
لاہور ہائیکورٹ میں متنازعہ "پنجاب پروٹیکشن آف اِمّوایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025” کو چیلنج — حکومت پنجاب سے جواب طلب
انتظامی افسران کو پراپرٹی تنازعات کے حل کے لیے عدالتی اختیارات دینا نہ صرف عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 175(3) کی بھی خلاف ورزی ہے،
لاہور (نمائندہ خصوصی) لاہور ہائیکورٹ میں متنازعہ "پنجاب پروٹیکشن آف اِمّو ایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025” کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔ دورانِ سماعت جسٹس فاروق حیدر نے حکومتِ پنجاب، چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات تفویض کرنے کی آئینی بنیاد کیا ہے۔
سینئر قانون دان کاشف مرزا کی جانب سے دائر پٹیشن
یہ درخواست سینئر قانون دان کاشف مرزا نے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ذوالفقار علی بخاری کے توسط سے دائر کی۔
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا یہ آرڈیننس آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، عدالتی خودمختاری، اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق، انتظامی افسران کو سول عدالتوں کے اختیارات تفویض کرنا آئین کی روح کے خلاف ہے اور اس اقدام سے نہ صرف عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی بلکہ انصاف کی فراہمی کا عمل بھی غیر شفاف ہو جائے گا۔
درخواست گزار کا مؤقف — "عدلیہ کے اختیارات انتظامیہ کو دینا آئین شکنی ہے”
سینئر قانون دان کاشف مرزا نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ:
"انتظامی افسران کو پراپرٹی تنازعات کے حل کے لیے عدالتی اختیارات دینا نہ صرف عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 175(3) کی بھی خلاف ورزی ہے، جو عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کو یقینی بناتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ متنازعہ آرڈیننس دراصل ایک متوازی عدلیہ قائم کرنے کے مترادف ہے، جس سے شہریوں کے آئینی حقوق اور انصاف کے عالمی اصول مجروح ہوتے ہیں۔
سید ذوالفقار علی بخاری کے دلائل — "آرڈیننس عالمی انصاف کے معیار سے بھی متصادم”
سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سید ذوالفقار علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام آئینی، قانونی اور بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ:
"انتظامی افسران کو ماورائے آئین اختیارات دینا شفاف ٹرائل، عدالتی نگرانی، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے اصولوں کے منافی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ متنازعہ آرڈیننس انصاف کے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ (یو این) چارٹر کے آرٹیکل 14 اور 19 کے تقاضوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے، جو شہریوں کو شفاف ٹرائل اور غیرجانبدار عدلیہ کا حق دیتے ہیں۔
درخواست میں اہم نکات
درخواست میں مندرجہ ذیل نکات اٹھائے گئے ہیں:
انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دینا آئین کے آرٹیکل 175، 202 اور 203 کے منافی ہے۔
حکومت نے آئین میں واضح علیحدگی کے اصول کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
اس آرڈیننس سے سول کورٹس کے اختیارات متاثر ہوں گے اور شہریوں کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گی۔
عدلیہ کے اختیارات انتظامیہ کو دینے سے “طاقت کی تقسیم” کا آئینی توازن بگڑ جائے گا۔
یہ اقدام "متوازی عدالتی نظام” کے قیام کے مترادف ہے جو آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔
آرڈیننس کے خلاف استدعا
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ:
پنجاب پروٹیکشن آف اِمّو ایبل پراپرٹی آرڈیننس 2025 کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرے۔
حکومت پنجاب کو ہدایت دے کہ پراپرٹی تنازعات کے حل کے لیے عدالتی فورمز کو فعال کیا جائے، نہ کہ انتظامی افسران کو یہ اختیارات دیے جائیں۔
اس نوعیت کے مزید آرڈیننس جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کی جائے تاکہ عدلیہ کے دائرۂ اختیار میں مداخلت نہ ہو۔
عدالت کے ریمارکس اور آئندہ سماعت
سماعت کے دوران جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ:
"یہ معاملہ انتہائی اہم نوعیت کا ہے — عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی جز ہے، اسے کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔”
عدالت نے حکومت پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل، چیف سیکرٹری اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے آئین کے برخلاف اختیارات تفویض کیے ہیں تو عدالت آئینی حدود میں رہتے ہوئے مناسب فیصلہ صادر کرے گی۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ آرڈیننس برقرار رہا تو یہ ملک میں عدلیہ و انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو غیر مؤثر بنا دے گا۔
ماہر قانون پروفیسر امتیاز شاہ کے مطابق:
"یہ اقدام عدالتی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہے، اور اگر عدالت نے اسے برقرار رکھا تو مستقبل میں انتظامیہ کو عدلیہ کے امور میں مداخلت کا راستہ مل جائے گا۔”
نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ میں دائر یہ پٹیشن آئینی و قانونی دائرہ اختیار کی نوعیت کو دوبارہ زیرِ غور لانے کا باعث بن گئی ہے۔
اب عدالتِ عالیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اہم آئینی سوال کا فیصلہ کرے کہ آیا انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دینا آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔
کیس کی آئندہ سماعت آئندہ ہفتے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔



