پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پنجاب یونیورسٹی میں انتہا پسندی کے تدارک اور معاشرتی شائستگی کے فروغ پر تفصیلی سیمینار

ملک کو اس سال درپیش چیلنجز کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کئی شعبوں میں کامیابیاں عطا کیں

 سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب سنٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم کے اشتراک سے ’’تشدد پر مبنی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا: معاشرے میں شائستگی اور دیانت داری کو مضبوط بنانا‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور تفصیلی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی و فکری نشست میں ملک بھر سے نامور دانشوروں، ماہرین، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد معاشرے میں امن، رواداری، برداشت، قانون پسندی اور مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لیے تمام طبقات کی ذمہ داریوں کا تعین اور ان کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا تھا۔

قانون پسندی اور قومی وحدت پر ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زور دار گفتگو

سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ پاکستان میں پائیدار امن کا قیام صرف اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں رہنے والے تمام شہری، چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، ایک ہی معیار پر قانون کی پاسداری کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی سب سے مقدم ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ذاتی مفاد یا نظریہ اہم نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر قاضی نے ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے مطالعے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی دستاویز ہے جس نے ملک بھر کے علماء اور دانشوروں کو ایک سوچ پر متحد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد، ناانصافی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ ہمیں اپنے گھروں سے شروع کرنا ہوگی، کیونکہ بنیادی تربیت گھر سے ہی پروان چڑھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اس سال درپیش چیلنجز کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کئی شعبوں میں کامیابیاں عطا کیں، اور اب وقت ہے کہ معاشرتی شائستگی، تہذیب، اور باہمی احترام کو مضبوط کیا جائے۔

فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر یکجہتی کی ضرورت — مولانا عبدالخبیر آزاد

چیئرمین مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے اپنی تقریر میں کہا کہ امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت معاشرے کو بانٹنے کا سبب بنتی ہے اور ہمیں اس تقسیم سے بلند ہو کر ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مولانا آزاد نے کہا کہ اتحاد اور یکجہتی ہمیشہ قوموں کی کامیابی کا راز رہا ہے اور پاکستان بھی اسی اصول پر کاربند ہو کر امن اور ترقی حاصل کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے اثرات اور نوجوانوں کی ذہنی تربیت — جنرل (ر) غلام مصطفی

دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) غلام مصطفی نے نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے ضرور ہیں مگر سمجھتے نہیں۔ انہوں نے علم اور معلومات میں واضح فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی سوچ اور ذہن سازی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی منفی سوچ رکھنے والے افراد سے دور رہیں جو ملک میں انتشار اور بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ریاستی معاہدوں اور ذمہ داریوں پر احمر بلال صوفی کی گفتگو

سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اور قرآن و سنت کے مطابق ریاستی و سماجی معاہدوں کی پابندی ہر شہری پر لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ داخلے کے وقت عدم تشدد اور پرامن رویے کی شق پر دستخط کرتے ہیں مگر بعد میں اسے فراموش کر دیتے ہیں، جو ایک منفی طرزِ عمل ہے۔ انہوں نے اس رویے کی اصلاح اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

جامعات کا کردار: تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری — ڈاکٹر شبیر احمد خان

ڈائریکٹر سی سی آئی ڈی ڈاکٹر شبیر احمد خان نے کہا کہ جامعات کا کردار صرف علم کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارے نوجوانوں کی کردار سازی، تربیت، اخلاقی نشوونما اور سماجی شعور پیدا کرنے کے مراکز بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں قائم مرکزِ ترقی و تہذیب و دیانت کا مقصد ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جو اعلیٰ اخلاق، دیانت داری، امانت اور سماجی ذمہ داریوں کے حامل ہوں۔

خواتین کی شمولیت کے بغیر امن نامکمل — ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا

سکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر تحمینہ اسلم رانجھا نے اپنے خطاب میں عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ افریقہ، ڈنمارک اور مراکش میں خواتین نے دہشت گردی کے خاتمے میں عملی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی امن کے قیام کے لیے خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں، جو کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

میڈیا کی ذمہ داری اور نوجوانوں کی تربیت — منصور اعظم قاضی

میڈیا کنسلٹنٹ منصور اعظم قاضی نے بیانیہ سازی میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میڈیا معاشرتی سوچ کو تشکیل دیتا ہے، اس لیے صحافتی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ مثبت، درست اور تصدیق شدہ معلومات کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ غیر مصدقہ معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہی عمل معاشرے میں بے چینی اور غلط فہمیوں کی بنیاد بنتا ہے۔

جامعات میں نظریاتی مکالمہ اور برداشت — ڈاکٹر خالد محمود

پنجاب یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ جامعات نظریاتی مباحث اور فکری ترقی کے اہم ترین فورمز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحث دلیل کے ساتھ ہونی چاہیے، اور زبان میں شائستگی کو ہمیشہ مقدم رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی طلبہ میں برداشت، سچائی، محبت، رواداری اور اخلاقیات کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

اختتامی اجلاس اور عزمِ نو

سیمینار کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں امن، رواداری اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی، نفرت انگیزی اور تشدد سے دور رکھنے کے لیے تعلیمی ادارے، حکومت، میڈیا اور گھر سب کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تقریب میں اساتذہ، ماہرین، سرکاری افسران اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مقررین کے خیالات کو بے حد سراہا۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا ہیڈ لائن ورژن، مختصر ورژن، یا سوشل میڈیا کے لیے کیپشن بھی بنا سکتا ہوں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button