
صدا‘ الفت کی کون سنے ؟…….ناصف اعوان
دکھ اس بات کا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمارے قومی وجود پر اداسی چھائی ہوئی ہے وہ ایک مشکل سے نکلنے کی کوشش کرتا بھی ہے تو کسی دوسرے میں الجھ جاتا ہے یا الجھا دیا جاتا ہے
ہمارے سماج کے اندر ایک بے چینی پھیلتی چلی جا رہی ہے یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا یہ کوئی نہیں جانتا۔ اس بے چینی کی بنیادی وجہ معاملات حیات ہیں کہ جن میں پیدا ہونے والی پیچیدگیاں گمبھیر شکل اختیار کر رہی ہیں ۔ آپ غربت کو لے لیں اس میں کمی نہیں ہو رہی اضافہ ہی ہو رہا ہے کیونکہ ہمارا نظام کچھ اس طرح کا ہے کہ اس میں جتنی بھی منصوبہ بندی کی جاتی ہے وہ سطحی ہوتی ہے دیرپا اور پائیدار پالیسیاں بہت کم بنائی جاتی ہیں پھر یہ عالمی مالیاتی اداروں کی مرہون ہوتی ہیں کیونکہ وہ ہمیں قرضہ دیتے ہیں جس کے ساتھ ان کے استعمال کا بھی بتاتے ہیں کس منصوبہ پرکتنا خرچ کرنا ہے کس پر کتنا ‘ اس بارے وہی بتاتے ہیں اور وہ کبھی بھی یہ نہیں بتاتے ‘ دوسرے لفظوں میں وہ یہ نہیں اجازت دیتے کہ ان کے قرضوں کو ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جن سے ہماری معیشت کو استحکام ملتا ہو وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہو لہذا جتنے بھی قرضے ملتے ہیں وہ ہماری غربت کو مستقلاً ختم کرنے میں ناکام رہتے ہیں ۔ ایک پہلو جو بڑا اہم ہے کہ قرضہ کی رقوم میں گھپلے بھی ہوتے ہیں جس کا جتنا اختیار ہوتا ہے وہ اس کے مطابق اپنی تجوری بھر لیتا ہے ۔یہ سلسلہ شروع دن سے جاری ہے۔ پہلے ذرا کم تھا چھپ چھپا کر ہو رہا تھا اب ”چِِٹے“ دن ہوتا ہے جس پر کسی کو شرمندگی بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنا حق سمجھتا ہے اور الٹا دوسروں پر انگلیاں اٹھاتا ہے لہذا دھیرے دھیرے قومی خزانے کی نقب زنی نے اب ایک بہت بڑا مسلہ کھڑا کر دیا ہے ۔غربت کا ایک پہاڑ آن سامنے کھڑا ہوا ہے لہذا لوگوں کی اکثریت اعصاب زدہ نظر آنے لگی ہے وہ بھونچکائی ہوئی ہے جس سے لگ رہا ہے کہ وہ افراتفری کا شکار ہے۔
دکھ اس بات کا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمارے قومی وجود پر اداسی چھائی ہوئی ہے وہ ایک مشکل سے نکلنے کی کوشش کرتا بھی ہے تو کسی دوسرے میں الجھ جاتا ہے یا الجھا دیا جاتا ہے لہذا کیسے چہروں پر رونق آئے اور کیسے مسکراہٹیں بکھریں لیکن یہ امر بھی قابل غور ہونا چاہیے کہ ہم خود بھی کوئی کوشش نہیں کرتے اِس آس میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی آئے اور ان کے دن پھیر دے ۔ ایسا نہیں ہوتا انسانی تاریخ ایسے واقعات سے بھی پڑی ہے کہ جو بھی حاصل ہوا ہمت اور جدوجہد سے ہوا اور یہ جدوجہد صدیوں پر محیط تھی لہذا خوش حالی کے حصول کے لئے متحرک ہونا پڑے گا غربت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس نظام کی جگہ کوئی ایسا نظام زندگی لانا پڑے گا جو عالمی مالیاتی اداروں کے زیر اثر نہ ہو یہ ادارے ہمیں ڈکٹیٹ نہ کرتے ہوں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہمارے کرتا دھرتا ان کا ساتھ دے رہے ہیں کیونکہ انہیں جہاں دولت کے انبار لگانا ہوتے ہیں وہاں اقتدار کے پنگھوڑے میں بھی بیٹھنا ہوتا ہے لہذا عوام کو ہر دو محاذوں کا سامنا کرنا ہو گا تب جا کر ان کو چاندنی راتوں سے لطف اٹھانے کا موقع ملے گا ۔
بہرحال اب جب کوئی بھی ساعت بوجھل پن سے خالی دکھائی نہیں دیتی تو ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے ماضی کے مناظر گھوم جاتے ہیں کہ جب ہم پیر محل کے قریب اپنے گاؤں میں رہتے تھے۔ اُس وقت آج کی طرح سہولتیں میسر نہیں تھیں ۔لوگ کچے مکانوں میں رہتے تھے ۔جدید ہسپتال بھی نہیں تھےمگر بیماریاں عام نہیں ہوتی تھیں کبھی کبھار کسی کو بخار ہو گیا تو کوئی دیسی ٹوٹکا آزما لیا جاتا اکثر مکینوں کے تو باہر کے دروازے بھی نہیں ہوتے تھے ۔ اونچی اونچی دیواروں کا رواج نہیں تھا ۔ پانی کے فلٹر بھی نہیں ہوتے تھے ۔دودھ خالص آٹا خالص مرچ خالص سبزیاں کسی سپرے کے بغیر دستیاب ہوتیں۔ چینی کے بجائے گڑ شکر کا استعمال کیا جاتا اِن دنوں بیلنے چلنا شروع ہو جاتے باغات میں عجب سماں ہوتا کہ کنوں مالٹے ہرے ہرے پیڑوں کی ٹہنیوں سے لٹک رہے ہوتے ۔ غم اور خوشی میں سب شریک ہوتے بیاہ شادی کی تقریبات میں بھی لازمی شامل ہوتے ۔کیا وہ دور تھا کیا وہ زمانہ تھا بھوک ننگ آج کی طرح کسی کو ہراساں نہیں کر رہی ہوتی تھی ۔ ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض ہوتا ۔ لڑائی جھگڑے عموماً گاؤں کی پنچایت ختم کرواتی بزرگوں کا ادب کیا جاتا کوئی بھی بڑا کسی کے بچے کو سمجھا سکتا تھا مگر مجال ہے اس کے والدین اس کا برا مناتے بلکہ وہ خوش ہوتے کہ آپ نے اچھا کیا۔ یوں پورا گاؤں محدود وسائل کے باوجود خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہوتا مگر وہ دور بیت گیا اسے کیسے واپس لائیں ؟
اب تو غذائیں خالص ہیں نہ فضائیں جس سے صحت برباد ہو رہی ہے جدیدیت ہے مگر سکون نہیں آسانیاں بہت مگر مشکلات بھی بہت ۔بندہ بندہ سے بے زار ۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے دور بھاگ رہا ہے ۔ نفرت اس قدر کہ کچھ نہ پوچھو۔ دماغوں میں بعض و عداوت کا لاوہ پکتا ہی چلا جا رہا ہے لہذا دل کرتا ہے کہ بقیہ ایام کسی گمنام گوشے میں گزار لیے جائیں مگر شاید ایسا ممکن نہیں رہا الجھیڑے ہی اتنے ہیں کہ ان سے جان نہیں چھوٹ رہی ۔سوال مگر یہ ہے کہ کیا ہم اس سماج کو خوبصورت نہیں بنا سکتے ؟ جواب ہوگا کیوں نہیں ۔جب یورپ بد ترین حالات سے گلو خلاصی کرا سکتا ہے اور ایک انصاف پسند ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے اور انسانی ہمدردی محبت اور خلوص کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں ایسا کر سکتے مگر اس کے لئے سوچ کو بدلنا ہو گا جو اوپر سے نیچے تک تبدیل ہونی چاہیے دولت و اختیارات کی حرص و ہوس کے حصار سے باہر نکلنا پڑے گا جو ناممکن نہیں تاکہ اٹھہتر برس میں جو دکھوں کی آنکھ مچولی کھیلی گئی ہے اس سے چھٹکارا مل سکےکیونکہ ہم نےاٹھہتر برس میں اس قدر دکھ جھیلے ہیں کہ اب انہیں دہرانے کو جی نہیں چاہتا ۔ ہمیں تو اب تک ایک ایسی قوم میں ڈھل جانا چاہیے تھا جس کی مثالیں پیش کی جاتیں اس میں زیادہ قصور ہمارے ارباب بست و کشاد کا ہے کہ جنہوں نے اپنی ذات سے آگے سوچنا گوارا نہیں کیا اس کی وجوہات بھی ہیں مگر اپنی دھرتی کے تقاضوں کو بھی تو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے تھا جنہیں یکسر فراموش کر دیا گیا نتیجتاً لوگ احساس بیگانگی و محرومی میں مبتلا نظر آنے لگےہیں مگر انہوں نے بھی ایسی صورت حال کو قبول کرلیا ہے اور اپنی کیفیت کو بدل دیا ہے لہذا سماجی خرابات و خرافات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جنہیں دیکھ کر اہل فکر کو بےحد پریشانی ہے اور وہ ماضی کے جھروکوں میں جھانکنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں چند گھڑیاں راحت وسکون کی میسر آجائیں !



