
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
لیبیا کی عرب مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، NI, NI (M), T Bt سے ملاقات کی۔ نیول ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کا پرتپاک استقبال چیف آف دی نیول اسٹاف نے کیا، جس کے بعد انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کا مرکز خاص طور پر علاقائی اور بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی کے موجودہ منظرنامے، سمندری راستوں کے تحفظ، بحری قزاقی، غیر قانونی اسمگلنگ اور سمندر میں جرائم کی روک تھام جیسے اہم موضوعات رہے۔
دونوں فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں بحری تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، اور اس تعاون کو مؤثر بنانے کے لیے قریبی رابطے اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
دفاعی اور تربیتی تعاون پر زور
ملاقات میں دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور بالخصوص تربیتی شعبے میں اشتراک بڑھانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تربیتی پروگرامز، پیشہ ورانہ تبادلوں، بحری مشقوں اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تاکہ دونوں ممالک کی بحری افواج کی استعداد کار میں اضافہ ہو سکے۔
لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے پاک بحریہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی خطے میں امن، استحکام اور میری ٹائم سیکیورٹی کے قیام میں ایک اہم اور مؤثر قوت کے طور پر ابھری ہے۔ انہوں نے سمندری سلامتی کے حوالے سے پاک بحریہ کے تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی مشقوں میں فعال کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا۔
دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے لیبیا کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لیبیا کے ساتھ اپنے دفاعی اور بحری تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید متنوع، مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور لیبیا کے درمیان دفاعی تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں مجموعی امن و استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کرے گا۔ ملاقات کے اختتام پر فریقین نے باہمی تعاون کے تسلسل، اعلیٰ سطحی رابطوں کے فروغ اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی اشتراک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفارتی و عسکری روابط میں اہم پیش رفت
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا کی اعلیٰ عسکری قیادت کے اس دورے کو پاکستان اور لیبیا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور عسکری روابط کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی، تربیت اور دفاعی تعاون کے نئے امکانات کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔



