
پہلی جرمن خاتون اسپیس ایکس پولر آربٹ مشن پر خلا میں
یہ مشن پیر کے روز امریکی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔ اس مشن کی مدت تین سے پانچ دن تک ہو گی۔
(جواد-جرمنی):رابیا روگے خلا میں پہنچنے والی پہلی جرمن خاتون بن گئی ہیں۔ انہوں نے پہلی بار زمین کے قطبی خطوں کے اوپر براہ راست پرواز کرنے والے اسپیس ایکس راکٹ میں سفر کرتے ہوئے ایسا کیا۔
رابیا روگے نے پیر کے روز ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور وہ خلا میں پہنچنے والی پہلی جرمن خاتون خلاباز بن گئیں۔ وہ اسپیس ایکس راکٹ کے اس مشن کا حصہ ہیں، جس نے زمین کے قطبی خطوں کے اوپر پہلی مرتبہ براہ راست پرواز کی۔
یہ مشن پیر کے روز امریکی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے خلا میں بھیجا گیا۔ اس مشن کی مدت تین سے پانچ دن تک ہو گی۔
جب طاقت ور راکٹ زمین کے شمالی اور جنوبی قطبوں کی طرف بڑھا، تو ایلون مسک کے اسپیس ایکس کنٹرول روم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اس خلائی کمپنی کی لائیو اسٹریم میں دکھایا گیا کہ فریم ٹو نامی اس مشن کے ذریعے چار نجی خلابازوں کو قطبی مدار میں بھیجا گیا۔ یہ مشن ایک قطب سے دوسرے قطب تک زمین کے گرد چکر لگائے گا۔ اس راستے پر کسی انسان نے پہلے سفر نہیں کیا۔
اس مشن کی قیادت مالٹا کے چینی نژاد بزنس مین چون وانگ کر رہے ہیں۔ عملے کے دیگر ارکان میں ناروے کی خاتون فلم ساز یانیکے میکلسن، آسٹریلوی پولر گائیڈ ایرک فلپس اور روبوٹکس کی ریسرچر رابیا روگے شامل ہیں۔
فریم ٹو کا نام آرکٹک اور انٹارکٹک کی مہمات کے لیے بنائے گئے 19ویں صدی کے مشہور نارویجین جہاز کے نام سے منسوب ہے۔ اس مشن کا مقصد بعض اہم ترین تجربات کرنا ہے، جن میں خلا میں پہلا انسانی ایکسرے اور مائیکرو گریویٹی میں مشروم کی کاشت بھی شامل ہیں۔
زمین پر واپس آنے کے بعد عملے کا مقصد اضافی طبی امداد کے بغیر خلائی جہاز سے باہر نکلنا ہے، جس سے محققین کو خلائی مسافروں کی خلا میں قیام کے بعد زمین پر بنیادی کام انجام دینے کی صلاحیت کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔
مشن کمانڈر چون وانگ نے خلا کی طرف روانہ ہونے سے پہلے کہا، ”ہمارا مقصد خلائی تحقیق کے طویل المدتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے نئے ڈیٹا اور معلومات کا حصول ہے۔‘‘
اس مشن کے عملے نے آٹھ مہینوں تک تربیت حاصل کی، جس میں الاسکا کے بیابانوں کی مہم بھی شامل تھی، تاکہ وہ سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کرسکیں۔
قطبی مدار عالمی زمینی مشاہدے کی اجازت دیتا ہے، جو عام طور پر آب و ہوا اور جاسوس مصنوعی سیاروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ خلابازوں نے زمین کے دونوں قطبوں پر براہ راست اڑان بھری ہے۔ یہ راستہ انسانی خلائی پرواز کے 64 سالوں میں آج تک استعمال نہیں ہوا تھا۔