بین الاقوامیاہم خبریں

جرمنی: سی ڈی یو اور ایس پی ڈی بڑے مالیاتی پیکج پر متفق

دفاعی اخراجات اور بنیادی ڈھانچے کے خصوصی فنڈ سے متعلق دونوں تحریکیں موجودہ پارلیمنٹ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے پیش کی جانی ہیں

(جواد احمد-پاکستان): حالیہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت سی ڈی یو اور ایس پی ڈی کے درمیان ابتدائی بات چیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ فریقین نے دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے ایک خصوصی فنڈ پر اتفاق کر لیا ہے۔
ان خدشات کے درمیان کہ اب امریکہ کی یورپ اور نیٹو اتحاد میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے، جرمنی کے ممکنہ اگلے چانسلر، فریڈرش میرس نے دفاع اور بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے سینکڑوں بلین یورو جمع کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
میرس کا یہ اعلان ان کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) اور اس کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) نیز سوشل ڈیموکریٹس (ایس پی ڈی) کے درمیان بات چیت کے درمیان سامنے آیا ہے۔
جرمنی کے وفاقی انتخابات میں سی ڈی یو کی نمایاں کامیابی کے ایک ہفتے بعد اس کا اعلان ہوا ہے اور میرس نے کہا ہے کہ ان کا مقصد ایس پی ڈی کے ساتھ مل کر حکومتی اتحاد تشکیل دینا ہے۔
ان جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دفاعی اخراجات پر کنٹرول کو آسان بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک تحریک پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ جرمنی کے جی ڈی پی کے ایک فیصد کو قرضوں کی حد سے زیادہ کیا جا سکے۔
اس کے تحت گزشتہ برس کی جرمن جی ڈی پی کی بنیاد پر اس میں تقریباً 43 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کے تمام اخراجات شامل ہوں گے۔
مزید یہ کہ ملک کی 16 انفرادی وفاقی ریاستوں کو بھی کارکردگی کو مزید فروغ دینے کے لیے اپنی اقتصادی پیداوار کے 0.35 فیصد کے برابر قرضے لینے کی اجازت دی جائے گی۔
جو کرنا ضروری ہے وہ کیا جائے گا
فریڈرش میرس نے کہا، "ہم اپنے آگے کاموں کے پیمانے سے واقف ہیں، اور ہم پہلے ہی ضروری اقدامات اور فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری آزادی اور ہمارے پر امن براعظم کو لاحق خطرے کے پیش نظر، جو کچھ بھی کرنا پڑے، ہمارے دفاع کا منتر وہی ہونا چاہیے۔”
سی ایس یو کے رہنما سوڈر نے کہا، "ہم دوستوں اور دشمنوں کو ایک اشارہ بھیج رہے ہیں: جرمنی یہاں ہے۔ جرمنی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”
میرس نے کہا کہ دفاعی اخراجات میں اس طرح کے اضافے کی مالی اعانت صرف اسی صورت میں جاری رہ سکتی ہے، جب جرمنی کی معیشت جلد از جلد "مستحکم ترقی کی راہ پر واپس آجائے”۔
انہوں نے کہا، "اس کے لیے نہ صرف مسابقتی حالات میں بہتری کی ضرورت ہے بلکہ ہمارے بنیادی ڈھانچے میں فوری اور پائیدار سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے۔”
چونکہ اس طرح کی سرمایہ کاری کو "صرف وفاقی بجٹ کے ذریعے مالی اعانت فراہم نہیں کی جا سکتی ہے” فریقین نے صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے لیے 500 بلین یورو کے ایک نئے خصوصی فنڈ پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سے یہ توقع ہے کہ آنے والی دہائی میں جرمنی کی بیمار معیشت کو متحرک کرنے میں مدد ملے گی۔
ایس پی ڈی کے رہنما کلنگبیل نے کہا، "ہم آخر کار اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے لاگ جام کو ختم کر رہے ہیں۔” ان کا مزید کہا تھا کہ جرمنی کے آئینی قرض کے وقفے پر سال کے آخر تک نظرثانی کی جائے گی "تاکہ اسے سرمایہ کاری میں رکاوٹ بننے سے روکا جا سکے۔”
دفاعی اخراجات اور بنیادی ڈھانچے کے خصوصی فنڈ سے متعلق دونوں تحریکیں موجودہ پارلیمنٹ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے پیش کی جانی ہیں۔ اسے سی ڈی یو اور ایس پی ڈی مشترکہ طور پر پیش کریں گی اور آئینی تبدیلی کی صورت میں دو تہائی اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کے لیے گرینز اور ایف ڈی پی سے انہیں حمایت کی توقع ہے۔
جرمنی کا امریکی پالیسی میں تبدیلی کا جواب
برلن کے ان اقدامات کا مقصد، جمعرات کے روز ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے پہلے جرمنی کی کارروائی کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرنا ہے۔ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں رکن ممالک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت امریکہ کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی پر بلاک کے ردعمل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
میرس نے کہا، "ہم مستقبل میں بھی اپنے باہمی اتحاد کے وعدوں پر قائم رہنے والے امریکہ پر اعتماد کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک اور اتحاد کے دفاع کے لیے فنڈز کو اب نمایاں طور پر بڑھایا جانا چاہیے۔”
میرس نے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرین کے لیے تین بلین یورو کے امدادی پیکج کی فوری منظوری کے لیے زور دیں گے، جو کہ پارلیمان میں ہفتوں سے زیر بحث ہے۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ بدھ کے روز اس سلسلے میں مشاورت کے لیے سبکدوش ہونے والے چانسلر اولاف شولس سے ملاقات کریں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button