
اسلام آباد، 10 جولائی 2025:
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور وزیر قومی دفاع یاسر گلر نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے، اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے اور کثیر جہتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کی ترک وفد کو خوش آمدید، برادرانہ تعلقات پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے ترک وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کا خصوصی طور پر ذکر کیا، جو کہ مشترکہ تاریخ، ثقافت، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں مثبت پیش رفت اور قریبی تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسٹریٹجک شراکت داری کی جانب پیش قدمی
وزیراعظم نے اس سال کے دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ مختلف بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی ملاقاتوں، بالخصوص 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
"پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔”
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کو سراہا، جس کی صدارت وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سینیٹر اسحاق ڈار نے مشترکہ طور پر کی۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس کثیر جہتی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔
علاقائی و عالمی حالات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم نے خطے اور دنیا میں جاری تبدیلیوں، بالخصوص غزہ، ایران، اور بھارت کے تناظر میں قریبی مشاورت اور سفارتی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ترکیہ کی پاکستان کے مؤقف کی حمایت پر ترک قوم اور قیادت کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کے فروغ پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کو 5 بلین امریکی ڈالرز کی باہمی تجارت کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹھوس کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔ انہوں نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ان کا کہنا تھا:
"پاکستان اپنی ساختی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کے عمل میں ترکیہ کے ساتھ قریبی اشتراک کا خواہاں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ترک کمپنیاں توانائی، انفراسٹرکچر، ٹیکسٹائل، تعمیرات اور دفاع جیسے شعبوں میں اپنی موجودگی کو وسعت دیں۔”
قومی سلامتی اور دفاعی تعاون کا اعادہ
ملاقات میں دفاعی تعاون، انسداد دہشتگردی، فوجی تربیت، اور دفاعی پیداوار جیسے اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے قومی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ اعلیٰ سطحی ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور مشترکہ ترقی کے عزم کی مظہر ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات ایک نئی جہت کی جانب گامزن ہیں، جو دونوں اقوام کے مفادات کو تحفظ دیتے ہوئے خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔



