
غزہ میں امدادی مراکز اور قافلوں پر حملوں میں 798 افراد ہلاک: اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ
کسی بھی امدادی مرکز پر مہلک واقعات کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں
جنیوا / غزہ : اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر (OHCHR) نے جمعے کے روز ایک انتہائی تشویشناک بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی میں امدادی مراکز اور قافلوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم 798 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک شدگان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو خوراک اور طبی امداد کے حصول کے لیے ان مراکز کے قریب موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان میں سے 615 افراد کی ہلاکت غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے امدادی مراکز کے آس پاس پیش آئی، جبکہ 183 افراد امدادی قافلوں کے راستے میں مارے گئے۔
امدادی مراکز پر حملے: عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی؟
اقوام متحدہ کے مطابق یہ حملے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے بلکہ عالمی انسانی قوانین، خصوصاً جنگ کے دوران انسانی امداد کی حفاظت سے متعلق ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی ہو سکتے ہیں۔
ترجمان روینا شمداسانی نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہا:
"27 مئی سے 7 جولائی کے درمیان ہم نے 798 ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔ ان میں سے اکثریت اُن مقامات پر ہوئی جہاں لوگ خوراک یا طبی امداد کے منتظر تھے۔”
انہوں نے ان واقعات کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن: متنازع کردار اور غیر روایتی امدادی ماڈل
غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) ایک نسبتاً نئی تنظیم ہے، جو مئی کے آخر سے غزہ میں خوراک کی تقسیم کا عمل انجام دے رہی ہے۔ اس فاؤنڈیشن نے امریکی نجی سیکیورٹی اور لاجسٹکس کمپنیوں کے ذریعے اپنا امدادی نظام قائم کیا ہے، جو اقوام متحدہ کے روایتی امدادی چینلز سے بالکل الگ ہے۔
GHF کا ماڈل اسرائیلی حکومت اور امریکی پالیسی ساز اداروں کی حمایت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے امدادی نظام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امداد کو حماس کے زیرِ اثر علاقوں تک پہنچا کر اسے لوٹ مار اور ہتھیاروں کی فراہمی میں غیر دانستہ طور پر شریک کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے امدادی عملے کے خلاف بغیر ثبوت الزامات لگائے جا رہے ہیں اور امدادی نظام کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
GHF کے خلاف تنقید: غیر جانبداری کا فقدان اور خطرناک طریقہ کار
OHCHR کی رپورٹ میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے ماڈل پر براہ راست تنقید کی گئی ہے۔ ترجمان روینا شمداسانی کے مطابق:
"GHF کا امدادی ماڈل غیر محفوظ ہے۔ اس میں انسانی ہمدردی کے بنیادی اصول، خصوصاً غیر جانبداری، غیر امتیازی سلوک اور شفافیت، کی شدید کمی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ GHF کی سرگرمیاں نہ صرف امدادی مقاصد کو خطرے میں ڈال رہی ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
GHF کا ردعمل: اقوام متحدہ کے دعوے گمراہ کن قرار
دوسری جانب غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اور الزامات کو "غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا:
"ہماری ٹیمیں زمین پر دن رات کام کر رہی ہیں۔ کسی بھی امدادی مرکز پر مہلک واقعات کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ یہ الزامات امدادی سرگرمیوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہیں۔”
GHF کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے سکیورٹی ماڈلز نہایت محفوظ اور جدید نظاموں پر مبنی ہیں، اور یہ صرف اقوام متحدہ کے امدادی نظام کی سست رفتاری اور ممکنہ جانبداری کا متبادل ہیں۔
عالمی ردعمل اور انسانی بحران میں شدت
عالمی ادارے، بشمول ریڈ کراس، ہیومن رائٹس واچ اور ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام امدادی سرگرمیوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے اور کسی بھی امدادی تنظیم کو فوجی یا سیاسی ایجنڈے کا آلہ نہ بنایا جائے۔
غزہ میں انسانی بحران پہلے ہی شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، پانی، بجلی اور طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے میں امدادی مراکز پر حملے نہ صرف موجودہ انسانی المیے کو گہرا کر رہے ہیں بلکہ آئندہ ہفتوں میں غذائی قلت اور وباؤں کے خدشے کو بھی بڑھا رہے ہیں۔
انسانی ہمدردی یا سیاسی پراکسی؟
غزہ میں جاری امدادی بحران ایک طرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے، تو دوسری طرف مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی پراکسی جنگ کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ اعداد و شمار ایک خطرے کی گھنٹی ہیں، جو عالمی برادری کو فوری اور منصفانہ اقدام کی دعوت دے رہے ہیں۔



