
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے ایک اہم ملاقات ہوئی، جس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی تاریخ کا ایک اہم موقع ہے۔
ملاقات میں شریک اہم شخصیات
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر قیادت ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز اور کابینہ کے دیگر وزراء و اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے جامع بات چیت کی گئی۔
دوطرفہ تعلقات کی گہری نوعیت
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر دونوں فریقین نے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، دفاعی، سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی تعاون کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
اقتصادی تعلقات میں فروغ
ملاقات میں دوطرفہ تجارت پر بھی بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدہ (IP-PTA) پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً 4 بلین امریکی ڈالر ہے۔ مزید برآں، تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ خاص طور پر حلال صنعت، زرعی اجناس کی تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون
دونوں رہنماؤں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ (Danantara) کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
صحت کے شعبے میں تعاون
وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کی تعریف کی، جن میں "مفت غذائیت سے بھرپور کھانے کا پروگرام” شامل ہے۔ وزیر اعظم نے صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے انڈونیشیا کی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور دونوں ممالک کے درمیان طبی ماہرین کے تبادلے، طبی قابلیت کی باہمی شناخت اور خصوصی تربیت کے ذریعے تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔
کشمیر اور غزہ کے مسائل پر بات چیت
ملاقات میں کشمیر اور غزہ کی صورتحال پر بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطابق ان تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے غزہ میں صدر پرابووو سوبیانتو کی فعال سفارتی اور انسانی کوششوں کو سراہا، اور جنگ بندی کے انتظامات اور انسانی امداد کی فراہمی میں ان کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔
کثیر الجہتی فورمز پر تعاون
دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ، OIC اور D-8 سمیت کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور فعال تعاون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کو D-8 کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور پاکستان کی طرف سے اس فورم پر مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ دونوں فریقین نے اس فورم کو عالمی سطح پر اقتصادی تعاون، تجارتی تعلقات اور ترقیاتی مسائل پر بات چیت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔
مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی، جس میں دونوں فریقین نے اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ تیار کیا۔
ظہرانہ اور تہنیتی تقریب
ملاقات کے بعد وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اپنے ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر خوشی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید مضبوط اور مستحکم تعلقات کی بنیاد رکھی جائے گی۔
پاکستان اور انڈونیشیا کے 75 سالہ سفارتی تعلقات
یہ ملاقات خاص طور پر پاکستان اور انڈونیشیا کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوئی، جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس اہم موقع پر اپنے ملکوں کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون کے رشتہ کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
خلاصہ:
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔ ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور دونوں رہنماؤں نے تجارتی، دفاعی، صحت اور دوسرے اہم شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور انڈونیشیا کے 75 سالہ دوطرفہ تعلقات کو ایک نیا رخ دینا تھا، اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان استحکام اور ترقی کی ایک نئی راہ روشن ہوئی ہے۔










