
پاک بحریہ کے تحت کراچی اور پورٹ قاسم میں دو روزہ سیکیورٹی اور ہاربر ڈیفنس مشق، کئی اداروں کی مشترکہ شرکت
یہ مشق اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاک بحریہ اور دیگر سول و عسکری ادارے ملک کے بحری اثاثوں، بندرگاہوں، اور تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے لیے نہ صرف مکمل طور پر تیار ہیں بلکہ قومی مفاد کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکس بھی ہیں
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ
ملک کی بحری سلامتی کو مزید مستحکم بنانے اور بندرگاہی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام کراچی اور پورٹ قاسم پر دو روزہ سیکیورٹی اور ہاربر ڈیفنس ایکسرسائز کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ یہ مشق پاک بحریہ کے کوسٹل کمانڈ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (PMSA)، کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ شرکت سے منعقد کی گئی۔
مشق کا مقصد: خطرات کی نشاندہی، بروقت ردعمل اور مؤثر تدارک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس مشق کا بنیادی مقصد بحری اور ساحلی تنصیبات کو درپیش ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی، فوری روک تھام اور مؤثر تدارک کو یقینی بنانا تھا۔ مشق میں مختلف حقیقی منظرناموں (Realistic Scenarios) کی بنیاد پر تربیتی سرگرمیاں انجام دی گئیں، تاکہ ہنگامی حالات میں تمام متعلقہ اداروں کی تیاری اور ہم آہنگ ردعمل کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
اہم تکنیکی پہلو: کمانڈ اینڈ کنٹرول اور مواصلاتی نظام کی بہتری
آئی ایس پی آر کے مطابق، مشق کے دوران مواصلاتی صلاحیت، صورتحال سے آگاہی (Situational Awareness)، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مربوط اور مؤثر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس مشق کا ایک اہم جزو مختلف اداروں کے درمیان ربط و ضبط، معلومات کے تبادلے، اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو بہتر بنانا تھا۔
مشترکہ کوششیں، قومی مفاد کے تحفظ کی ضامن
مشق میں شریک اداروں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ یہ مشق اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاک بحریہ اور دیگر سول و عسکری ادارے ملک کے بحری اثاثوں، بندرگاہوں، اور تجارتی راہداریوں کے تحفظ کے لیے نہ صرف مکمل طور پر تیار ہیں بلکہ قومی مفاد کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ چوکس بھی ہیں۔
تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل اور سرمایہ کاری کے تحفظ کی یقین دہانی
آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ:
"یہ مشق نہ صرف ہماری بحری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے، بلکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ پاکستان میں تجارتی سرگرمیاں ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مشقیں وقتاً فوقتاً منعقد کر کے ادارہ جاتی استعدادکار کو جانچا جاتا ہے، اور نئی حکمت عملیوں کو بروئے کار لا کر علاقائی اور عالمی بحری خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت حاصل کی جاتی ہے۔
عزم، ہم آہنگی اور پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی
یہ مشق اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان کی سمندری سرحدوں اور بندرگاہی تنصیبات کی حفاظت کے لیے نہایت مربوط، پرعزم اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔


