پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

راولپنڈی میں انسانی اعضا کی غیرقانونی پیوندکاری کا انکشاف، دو گینگز بے نقاب، متعدد گرفتاریاں

متاثرہ شخص کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

راولپنڈی خصوصی نمائندہ

پنجاب کے بڑے شہروں میں سے ایک، راولپنڈی میں انسانی اعضا کی غیرقانونی خرید و فروخت کا سنگین اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ راولپنڈی پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں ایسے دو علیحدہ گینگز کا پتہ لگایا گیا ہے جو مبینہ طور پر نوکری کا جھانسہ دے کر معصوم افراد کو اغوا کرتے، انہیں بے ہوش کر کے ان کے گردے نکالنے کی تیاری کرتے تھے۔

نوکری کا جھانسہ، بے ہوشی، قید اور اعضا نکالنے کی تیاری

اس انسانیت سوز اسکیم کا شکار بننے والے متاثرہ شہری محمد قدیر (فرضی نام) راولپنڈی کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی ہیں۔ انہیں چند روز قبل بحریہ ٹاؤن فیز 8 سے ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں نوکری کی پیشکش کی گئی۔ محمد قدیر نے فوری طور پر کال پر دیے گئے پتے پر جانے کا فیصلہ کیا۔

جیسے ہی وہ مذکورہ مقام پر پہنچے، وہاں موجود افراد نے ان سے رسمی بات چیت کے بعد ایک جوس پلایا، جس میں نشہ آور ادویات شامل تھیں۔ محمد قدیر بے ہوش ہو گئے اور ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ بعدازاں انہیں ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں کچھ میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے۔ متاثرہ شخص کو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

سٹریچر پر بندھا ہوا ملا، پولیس کی بروقت کارروائی

طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اسی سوسائٹی میں لا کر ایک گھر میں سٹریچر پر رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ اگلی صبح پولیس کو معمول کی گشت کے دوران اس گھر سے انسانی آوازیں سنائی دیں۔ گھر کے باہر ایک ایمبولینس اور چند مشکوک گاڑیاں بھی موجود تھیں۔

پولیس نے پہلے دروازہ بجایا لیکن جواب نہ ملنے پر زبردستی داخل ہو گئی۔ گھر کے اندر کا منظر انتہائی ہولناک تھا — ایک شخص سٹریچر پر بندھا ہوا تھا، طبیعت نازک تھی، اور گھر کا ماحول کسی غیرقانونی کلینک کی مانند تھا۔ پولیس کی آمد پر کچھ افراد فرار ہو گئے، تاہم ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا اور محمد قدیر کو فوری بازیاب کرایا گیا۔

دوسری کارروائی: تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں ایک اور گروہ بے نقاب

اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں پیش آیا، جہاں پولیس کو 15 پر اطلاع موصول ہوئی۔ ایس پی پوٹھوہار احمد طلحہ ولی کے مطابق پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور وہاں بھی ایک شخص کو سٹریچر پر رسیوں سے بندھا ہوا پایا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کر کے اسے زندگی کے خطرے سے بچایا، جبکہ دو ملزم گرفتار کیے گئے اور دیگر فرار ہو گئے۔

اعضا نکالنے کے آلات، ادویات، اور جعلی میڈیکل رپورٹس برآمد

دونوں کارروائیوں میں پولیس نے گھروں سے گردہ نکالنے کے آلات، سرجیکل سامان، نشہ آور ادویات، جعلی میڈیکل رپورٹس، اور دیگر شواہد برآمد کیے ہیں۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ مقامی اور غیرملکی خریداروں کو گردے فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

دو سرجن، اسسٹنٹس اور دیگر سہولت کاروں کی تلاش جاری

پولیس حکام کے مطابق دونوں کیسز میں اب تک دو مختلف گروہوں کا سراغ لگایا گیا ہے۔ ان کے کچھ اہم کارندے گرفتار کر لیے گئے ہیں، تاہم دو سرجنز، ان کے میڈیکل اسسٹنٹس اور دیگر چار سہولت کار ابھی مفرور ہیں جن کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

انسانی اسمگلنگ اور پیوندکاری کا ایک نیا رخ

یہ واقعات نہ صرف ایک خطرناک غیرقانونی میڈیکل مافیا کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ راولپنڈی جیسے بڑے شہر میں کمزور طبقے کو نشانہ بنا کر، نوکری کی جھوٹی آفرز کے ذریعے انہیں انسانی اعضا کے کاروبار میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کا عوام سے تعاون کی اپیل

راولپنڈی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشکوک شخص، کلینک یا ہاؤسنگ یونٹ سے متعلق معلومات ہوں، تو فوری طور پر پولیس یا 15 پر اطلاع دیں تاکہ مزید انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔

متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت

سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے اداروں نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایسے غیرقانونی پیوندکاری مافیا کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے اور متاثرہ افراد کے لیے قانونی اور طبی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button