یورپ

جرمنی میں اب ایئر کنڈیشنر بھی روزمرہ کی ضروریات میں شامل

گزشتہ پانچ برسوں میں جرمنی میں ایئر کنڈیشنرز کی مجموعی پیداوار میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جاوید اختر ڈی پی اے، روئٹرز کے ساتھ

جرمنی میں اب ایئر کنڈیشنر بھی روزمرہ کی ضروریات کی فہرست میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں ایئر کنڈیشنرز کی پیداوار اور درآمد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر شماریات نے بتایا کہ 2024 میں ایئر کنڈیشنرز کی مقامی پیداوار میں 92 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 2023 میں 1,64,000 یونٹوں سے بڑھ کر 2024 میں 3,17,000 یونٹس تک پہنچ گئی۔

گزشتہ پانچ برسوں میں جرمنی میں ایئر کنڈیشنرز کی مجموعی پیداوار میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں ایئر کنڈیشنرز کی درآمدات بھی بلند سطح پر ہیں۔ 2024 میں جرمن عوام نے 1.1 بلین ڈالر مالیت کے ایئر کنڈیشننگ یونٹس خریدے، جو 2023 کے 1.2 بلین ڈالر کے ریکارڈ سے کچھ ہی کم ہے۔

درآمد کیے گئے ہر چار میں سے ایک ایئر کنڈیشنر اٹلی میں تیار کیا گیا تھا۔ اٹلی کے بعد اس حوالے سے چین اور سویڈن کے نام آتے ہیں۔

جرمنی  تھرمامیٹر
جرمن قومی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ درجہ حرارت بدھ تک 38 ڈگری تک جا سکتا ہےتصویر: Wolfgang Rattay/REUTERS

درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع

موجودہ ہیٹ ویو جو کئی ہفتوں سے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھی، اب جرمنی پہنچ چکی ہے، جہاں پیر کو درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ (86 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔

قومی محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ بدھ تک 38 ڈگری تک جا سکتا ہے۔ جرمنی کے شمالی ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت کچھ ڈگری کم رہنے کا امکان ہے۔

زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی مرطوب ہوا بھی لوگوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث ہے، اور جمعرات کو درجہ حرارت اور مرطوب ہوا کے عروج پر پہنچنے اور شدید گھن گرج اور چمک کے ساتھ طوفان کا خطرہ بڑھ جانے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ”زیادہ پانی پیئں، سایہ دار جگہوں میں رہیں، جسمانی مشقت سے گریز کریں اور اپنے گھروں کو ٹھنڈا رکھیں۔‘‘

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ موجودہ ہیٹ ویو کتنے دن جاری رہے گی، قبل اس کے کہ یہ مشرق کی طرف بڑھ جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button