
مصر میں فلسطینی دھڑوں کی مشاورت …. اسرائیلی فوج کا غزہ کی پٹی پر قبضے کا منصوبہ منظور
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں آدھی سے زیادہ ادویات ختم ہو چکی ہیں
مصر،اسرائیل،غزہ ایجنسیاں
ریاض : غزہ کی صورت حال پر آج بروز بدھ قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں۔
"العربیہ” اور "الحدث” کے مطابق مصر فتح موومنٹ اور فلسطینی قیادت سے بھی ملاقاتیں کرے گا تاکہ مشترکہ موقف پر اتفاق کیا جا سکے، اور اس سلسلے میں سعودی عرب، امارات اور اردن سے بھی رابطے جاری ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے بتایا کہ چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بدھ کو غزہ پر حملے کی "مرکزی حکمتِ عملی” کی منظوری دے دی ہے۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں اب تک کی کارروائیوں اور خاص طور پر غزہ کے محلے الزيتون پر حالیہ حملے کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی، جو سیاسی قیادت کی ہدایات کے مطابق ہو گی۔
اس سے قبل حماس تنظیم کا وفد جنگ بندی کی نئی مصری تجویز پر بات چیت کے لیے قاہرہ پہنچا۔ مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کے مطابق یہ تجویز 60 روزہ جنگ بندی، کچھ اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور انسانی و طبی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر مبنی ہے، جس پر قطر اور امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے اور جنگ کے اگلے مرحلے کی منظوری دی تھی، تاہم اس کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ پچھلے دو روز میں شہر پر بالخصوص الزيتون محلے پر بم باری تیز ہو گئی ہے۔ غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ صورتِ حال "انتہائی خطرناک” ہے اور اسرائیل بھاری دھماکا خیز بم استعمال کر رہا ہے جن سے ایک ساتھ کئی گھر تباہ ہو رہے ہیں۔
منگل کو طبی ذرائع نے بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں 73 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کچھ خان یونس اور دیر البلح میں امداد کے منتظر لوگ بھی شامل ہیں۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق گزشتہ رات اسرائیلی فوج نے خان یونس کے وسطی و شمالی حصوں پر گولہ باری کی۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے غزہ کی طبی صورتِ حال کو "تباہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آدھی سے زیادہ ادویات ختم ہو چکی ہیں اور فراہم کی گئی طبی امداد ضرورت سے کہیں کم ہے۔
اقوامِ متحدہ قحط کے خطرے سے خبردار کر رہی ہے، جبکہ اسرائیل کو اندرون و بیرون ملک جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔
جنگ کا آغاز سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے ہوا، جس میں اسرائیل میں 1219 افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جاری جوابی حملوں اور کارروائیوں میں اب تک کم از کم 61,599 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد وشمار کو معتبر مانتی ہے۔



