
بھارت کے یومِ آزادی پر لاہور میں یومِ سیاہ، کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرہ
بھارت آج اپنی آزادی کا 78واں یومِ آزادی منارہا ہے، لیکن دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں
لاہور (نمائندہ خصوصی) – بھارت کے یومِ آزادی 15 اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کشمیر سنٹر لاہور اور جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے رہنما، سول سوسائٹی کے نمائندگان، کشمیری کمیونٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکاء نے ہاتھوں میں سیاہ پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”کشمیر بنے گا پاکستان”، ”بھارت کا یوم آزادی — کشمیریوں کا یوم سیاہ”، ”گو انڈیا گو بیک” اور ”آزادی ہمارا حق ہے” جیسے نعرے درج تھے۔ فضا مسلسل احتجاجی نعروں سے گونجتی رہی اور سڑک کنارے شہری مظاہرین کی آواز سے متوجہ ہوتے رہے۔
احتجاجی مظاہرے سے مختلف قائدین کا خطاب
مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما غلام عباس میر، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری راجہ شیرزمان ایڈووکیٹ، انچارج کشمیر سنٹر لاہور انعام الحسن، سیکرٹری کشمیر ایکشن کمیٹی فاروق آزاد، حریت رہنما نذیر میر، جنرل سیکرٹری مسلم لیگ ن لاہور ڈویژن بلال بٹ، نائب صدر چوہدری محمد صدیق، لیگی رہنما امجد راٹھور، صدر حلقہ عاطف میر، مذہبی رہنما علامہ فداء الرحمان حیدری، پروفیسر مظہر عالم، نذر بھنڈر، معروف فنکار اسلم مغل، نثار بیگ، طارق جعفری اور دیگر شامل تھے۔
یومِ آزادی یا یومِ سیاہ؟
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ بھارت آج اپنی آزادی کا 78واں یومِ آزادی منارہا ہے، لیکن دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی آزادی سلب ہے اور عوام بھارتی تسلط کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے بھارتی فوجی قبضے کے تحت ہے، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بن چکی ہیں۔
عالمی برادری سے مطالبہ
رہنماؤں نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور دنیا کی بااثر قوتوں سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں۔ مقررین نے بھارتی حکومت کی حالیہ پالیسیوں کو کشمیری عوام پر ظلم اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
احتجاج کا پیغام
مظاہرے کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ 15 اگست کشمیریوں کے لیے خوشی کا دن نہیں بلکہ اُن کی غلامی، جدوجہد اور قربانیوں کی ایک تلخ یاد ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی۔



