
کوئٹہ: BUITEMS کا لیکچرار دہشتگرد نکلا — 14 اگست کو پاکستان کو لہو میں نہلانے کا منصوبہ ناکام، ریاست کا دوٹوک پیغام
اگست 2025 کی علی الصبح تین بجے کے قریب سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے کوئٹہ کے علاقے افنان ٹاؤن میں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر بیوٹمزکے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عثمان قاضی اور ان کے چھوٹے بھائی جبران احمد کو حراست میں لے لیا۔
کوئٹہ نیوز ڈیسک:
بلوچستان میں ایک اور خطرناک دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ 11 اگست کو کوئٹہ سے گرفتار کیے گئے ایک خودکش بمبار کی نشاندہی پر بلوچستان یونیورسٹی آف آئی ٹی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کے لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی کو گرفتار کیا گیا، جن کے بارے میں تحقیقاتی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے خوفناک ترین ونگ، مجید بریگیڈ سے منسلک تھے۔
ڈاکٹر قاضی کی گرفتاری سے 9 نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن حملے اور یومِ آزادی 14 اگست 2025 کو ملک بھر میں تباہی پھیلانے کے منصوبے کا پردہ چاک ہوا ہے۔
لیکچرار نہیں، دہشت گرد منصوبہ ساز
تفتیشی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر عثمان قاضی نہ صرف BLA کے لیے خودکش حملہ آور بھرتی کرنے میں سرگرم تھے بلکہ انہوں نے ذاتی رہائش گاہ کو دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ دہشت گرد رفیق بزنجو، جو ایک خودکش حملے میں زخمی ہو کر بچ گیا تھا، اسے ڈاکٹر قاضی نے اپنے گھر میں پناہ دی اور ذاتی طور پر علاج بھی کرایا۔
مزید براں، تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر قاضی نے کئی نوجوان طالبعلموں کو خودکش جیکٹس اور نظریاتی زہر فراہم کیا۔ انہیں ’’قوم کے ہیرو‘‘ کا جھانسہ دے کر دہشت گردی پر آمادہ کیا جا رہا تھا۔
منصوبہ: پاکستان کو 14 اگست پر جلایا جانا تھا
ڈاکٹر قاضی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ:
14 اگست کو ملک بھر میں 32 خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
ان حملوں میں 4 VBIEDs (گاڑیوں میں نصب بم) بھی استعمال کیے جانے تھے۔
اہداف میں اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور سمیت بڑے شہر شامل تھے۔
منصوبے کا مقصد یومِ آزادی کو ’’یومِ ماتم‘‘ میں بدلنا تھا۔
خفیہ اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے نہ صرف منصوبے کو ناکام بنایا بلکہ پورے ملک کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا۔
تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کا نیٹ ورک
ڈاکٹر عثمان قاضی جیسے افراد کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند گروپ تعلیمی اداروں کو آلہ کار بنا رہے ہیں۔ استاد کے روپ میں ایسے عناصر طلبہ کو دہشتگردی کی راہ پر لگا رہے ہیں، انہیں ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے، اور ان سے خودکش حملوں جیسے بھیانک جرائم کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید لیکچرارز اور سہولت کاروں کی نشاندہی ہو چکی ہے، جن کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
دہشتگردی کو "انسانی حقوق” کا لبادہ پہنانے والے
دوسری جانب، ماہرنگ بلوچ، ایمان زینب مزاری، ماما قدیر، پیراک بلوچ جیسے افراد مسلسل BLA کے بیانیے کو عالمی فورمز اور سوشل میڈیا پر "انسانی حقوق” کا رنگ دے کر پیش کرتے رہے ہیں۔
ریاستی ادارے اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:
’’کیا دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ان کے بیانیے کو فروغ دینا آزادیٔ اظہار ہے، یا پاکستان کے خلاف نفرت کا ایک منصوبہ؟‘‘
حکام نے واضح کیا ہے کہ اب ریاست ایسے عناصر کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ قانون کے دائرے میں سب کو لایا جائے گا۔
ریاست کا واضح پیغام: بلیک میلنگ ختم، اب فیصلہ عوام کا
ریاستی ترجمان کا کہنا ہے:
’’فتنہ الہندوستان کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔ بلوچ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا — کیا وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، یا ان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ جو بلوچستان کا نام بدنام کر رہے ہیں؟‘‘
ریاست نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم اور صحت کے مواقع کو مزید وسعت دی جائے گی، تاکہ عوام کو دہشتگردوں کے جھوٹے بیانیے سے بچایا جا سکے۔
نتیجہ: ایک اور سانحہ ناکام، مگر جنگ ابھی باقی ہے
ڈاکٹر عثمان قاضی کی گرفتاری نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی صرف پہاڑوں اور کیمپوں میں نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کے لیکچر ہالز تک پھیل چکی ہے۔ ریاست نے ایک مرتبہ پھر دہشتگردوں کو شکست دی ہے، مگر اصل فتح تب ہو گی جب بلوچ نوجوان خود ان عناصر کو مسترد کریں گے جو انہیں جہالت، نفرت اور موت کے سفر پر دھکیل رہے ہیں۔



