بین الاقوامیاہم خبریں

امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ: برآمدات کو بڑا دھچکا، بھارت کا شدید ردعمل

"نیا ٹیرف نظام بھارت کے صنعتی ویلیو چین میں عالمی کردار کو کمزور کر دے گا اور امریکہ میں بھارتی مصنوعات کی دیرینہ موجودگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔"

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) — امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت آج، بروز بدھ، بھارتی مصنوعات پر مجموعی طور پر 50 فیصد تک کے درآمدی ٹیرف نافذ العمل ہو چکے ہیں، جو بھارت کے لیے معاشی لحاظ سے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ اقدامات امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی درآمد جاری رکھنے کے "ردعمل” میں کیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر صدر ٹرمپ نے 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم رواں ماہ کے آغاز میں ان میں مزید 25 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔


48 ارب ڈالر کی برآمدات خطرے میں، چھوٹے کاروباروں کو شدید نقصان کا خدشہ

بھارتی وزارت تجارت کے مطابق، ان بھاری محصولات کے نتیجے میں تقریباً 48.2 ارب ڈالر کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ٹیکسٹائل، جواہرات، چمڑے کی مصنوعات، خوراک اور آٹوموبائلز کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی کے معروف تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹیو کے بانی اور سابق تجارتی عہدیدار اجے سریواستو نے خبردار کیا ہے کہ:

"نیا ٹیرف نظام بھارت کے صنعتی ویلیو چین میں عالمی کردار کو کمزور کر دے گا اور امریکہ میں بھارتی مصنوعات کی دیرینہ موجودگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات پر انحصار کرنے والے کئی شہروں میں بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔


امریکہ کی منڈی میں موجود بھارتی برانڈز متاثر، کلائنٹس پریشان

آگرہ کے معروف جوتا برآمد کنندہ اور کونسل فار لیدر ایکسپورٹس کے علاقائی چیئرمین پوران داوڑ نے کہا کہ:

"یہ ایک مکمل دھچکا ہے۔ اس سے ہماری قلیل مدتی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جب تک کہ ملکی طلب میں اضافہ نہ ہو یا دیگر عالمی منڈیاں ہماری مصنوعات کی کھپت میں اضافہ نہ کریں۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام سے امریکی صارفین کو بھی نقصان ہو گا کیونکہ ان پر لاگت کا بوجھ بڑھ جائے گا۔


چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سب سے زیادہ متاثر

بھارتی برآمد کنندگان کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائی کے مطابق:

"یہ ایک پیچیدہ صورتحال ہے، جس سے چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ کچھ پراڈکٹ لائنز تو راتوں رات بند ہو جائیں گی۔”

ایسی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد امریکی مارکیٹ پر انحصار کرتی ہے، جہاں سے اب انہیں ریونیو حاصل ہونے کی توقع کم ہوتی جا رہی ہے۔


امریکہ کی جانب سے چند شعبوں کو استثنیٰ، وقتی ریلیف

امریکہ نے فارماسیوٹیکلز اور الیکٹرانک اشیاء جیسے چند اہم شعبوں کو ان نئے ٹیرفس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے، جن میں بھارت کی عالمی سطح پر خاصی مضبوط موجودگی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ استثنیٰ بھی محدود مدت کے لیے ہے اور صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔


تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار، امریکی وفد کا دورہ منسوخ

یہ ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر چھٹے دور کی بات چیت کی تیاری کی جا رہی تھی۔ تاہم، امریکی وفد نے اچانک اپنا دورہ نئی دہلی منسوخ کر دیا، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر بات چیت کی بحالی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

دوسری جانب امریکہ، بھارت سے اپنے زرعی اور ڈیری مصنوعات کے لیے منڈی کھولنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے نئی دہلی اپنے کسانوں اور دیہی معیشت کے تحفظ کے لیے مسترد کر چکی ہے۔


مودی حکومت کا سخت ردعمل: ’’ہماری ترجیح کسان اور چھوٹے کاروبار‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک عوامی ریلی سے خطاب میں امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا:

"میرے لیے کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات سب سے زیادہ اہم ہیں۔ ہم کسی قیمت پر اپنے لوگوں کی قربانی نہیں دیں گے۔ دنیا آج معاشی خودغرضی کی سیاست کا مشاہدہ کر رہی ہے۔”

مودی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے بجائے مقامی صنعت کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گی۔


حکومتی اقدامات: مالی مراعات اور متبادل منڈیاں تلاش کرنے کی کوششیں

بھارتی حکومت نے اندرونی طلب کو بڑھانے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے کئی اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جن میں:

  • اشیاء و خدمات پر ٹیکس (GST) میں ممکنہ کمی

  • برآمد کنندگان کو بینک قرضوں پر سبسڈی

  • دیوالی سے قبل صارفین کے لیے انشورنس، گاڑیوں اور گھریلو مصنوعات پر ٹیکس ریلیف

مزید برآں، وزارت تجارت اور وزارت خزانہ لاطینی امریکہ، افریقہ، اور جنوب مشرقی ایشیا میں نئی منڈیوں کی تلاش پر بھی کام کر رہی ہیں، تاکہ بھارت کا انحصار امریکی منڈی پر کم کیا جا سکے۔


تجارتی جنگ کا خطرہ، عالمی معیشت پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ نیا تجارتی تنازع نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی سپلائی چین اور عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بھارت کی حیثیت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے طور پر اہم ہے، جبکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔

اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی، تو دونوں ممالک کو طویل مدتی معاشی نقصانات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button