پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

ننکانہ صاحب میں دو احمدی عبادتگاہوں کے مینار اور محراب مسمار — جماعت احمدیہ نے غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کر دی

پولیس کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، کی جان، مال اور عبادتگاہوں کا تحفظ کرے۔ لیکن یہاں الٹا پولیس خود غیر آئینی کارروائیوں میں ملوث ہو رہی ہے

چناب نگر / ننکانہ صاحب (خصوصی رپورٹر)
2 ستمبر 2025 کی رات، تھانہ صدر سانگلہ ہل کی حدود میں واقع دو احمدی عبادتگاہوں — چہور مغلیاں اور چہور کوٹلی (ضلع ننکانہ صاحب) — کو پولیس اور میونسپل کمیٹی کے عملے نے مشترکہ کارروائی کے دوران نشانہ بنایا، اور ان عبادتگاہوں کے مینار اور محراب کو مسمار کر دیا۔ جماعت احمدیہ پاکستان نے اس اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان، عامر محمود نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائی مقامی انتہا پسند عناصر کے دباؤ پر کی گئی، جو کئی ہفتوں سے ایک منظم مہم کے تحت احمدی عبادتگاہوں کی شناختی علامتوں — خصوصاً مینار اور محراب — کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان عناصر کی جانب سے پہلے سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی، جس کے بعد مقامی انتظامیہ بشمول اسسٹنٹ کمشنر (AC) اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (DSP) نے احمدی برادری پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ ازخود اپنی عبادتگاہوں کے مینار اور محراب کو ہٹا دیں۔

مقامی احمدیوں کا مؤقف:
مقامی احمدیہ برادری نے واضح الفاظ میں انتظامیہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی عبادتگاہوں کی شناخت کو خود سے ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود 2 ستمبر کی رات، پولیس اور میونسپل کمیٹی کے عملے نے ان دو عبادتگاہوں پر چھاپہ مارا، ان کے مینار اور محراب کو توڑا اور بعد ازاں ملبہ ساتھ لے گئے۔

غیر قانونی اقدام، آئینی خلاف ورزی:
ترجمان جماعت احمدیہ نے اس کارروائی کو پاکستان کے آئین اور سپریم کورٹ کے 2014 کے تاریخی فیصلے (چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے تحت) کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جس میں ریاستی اداروں کو تمام اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور عبادات کے تحفظ کا پابند بنایا گیا تھا۔

عامر محمود کا کہنا تھا:

"پولیس کا فرض ہے کہ وہ ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، کی جان، مال اور عبادتگاہوں کا تحفظ کرے۔ لیکن یہاں الٹا پولیس خود غیر آئینی کارروائیوں میں ملوث ہو رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ملک کے آئینی ڈھانچے کے خلاف ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔”

ملبہ بھی ساتھ لے جایا گیا
ذرائع کے مطابق، نہ صرف مینار اور محراب کو گرایا گیا، بلکہ ان کا ملبہ بھی انتظامیہ کی گاڑیوں میں ڈال کر موقع سے ہٹا دیا گیا، تاکہ کوئی ثبوت باقی نہ رہے۔ یہ طرزِ عمل غیر معمولی اور تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ کارروائی محض "مذہبی حساسیت” کا معاملہ نہیں بلکہ ایک منظم دباؤ اور تعصب کا شاخسانہ ہے۔

قانونی ماہرین کا ردعمل
انسانی حقوق کے متعدد ماہرین نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل اور اقلیتوں کے حقوق کے علمبردار، ایڈووکیٹ فیصل محمود نے اسے آئین کے آرٹیکل 20 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جو ہر شہری کو "اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے” کا بنیادی حق دیتا ہے۔ اُن کے مطابق:

"یہ کارروائیاں نہ صرف اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہیں، بلکہ ریاست کی ذمہ داری سے بھی انحراف ہے۔ ایسی مثالیں ملک میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کرتی ہیں۔”

مطالبات:
جماعت احمدیہ پاکستان نے حکومتِ پاکستان، وزارت داخلہ، چیف جسٹس آف پاکستان، اور انسانی حقوق کمیشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث افسران کے خلاف فوری انکوائری کی جائے؛

  2. احمدیوں کی عبادتگاہوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے؛

  3. مذہبی آزادی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے؛

  4. اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات کو قانون کے دائرے میں لا کر روکا جائے۔


پس منظر:
پاکستان میں احمدیہ برادری طویل عرصے سے مذہبی امتیاز، نفرت انگیز تقاریر، اور عبادتگاہوں پر حملوں کا شکار رہی ہے۔ 1984 کے آرڈیننس XX کے بعد سے احمدیوں پر نہ صرف خود کو "مسلمان” کہلانے کی پابندی ہے، بلکہ ان کی مذہبی علامات کو بھی اکثر ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے نے تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینے کی بات کی تھی، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔


خلاصہ:
تھانہ صدر سانگلہ ہل کے تحت پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے چہور مغلیاں اور چہور کوٹلی کی احمدی عبادتگاہوں پر کیا گیا یہ حملہ، صرف دو عمارات کی مسماری نہیں، بلکہ ایک بڑے آئینی اور انسانی حقوق کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پاکستان کے اُس وعدے کی نفی ہے جو بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے تمام اقلیتوں کو "مکمل مذہبی آزادی” کی صورت میں دیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button