پاکستاناہم خبریں

خواندگی کا فروغ قومی ترقی کی کنجی ہے، وزیراعظم شہباز شریف — تعلیم کو قومی ترجیح بنانے پر زور

"آج کے جدید دور میں علم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو غلامی سے نکال کر خود مختاری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ اس لیے بحیثیت قوم، ہمیں تعلیم کو صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ اولین ترجیح سمجھنا ہو گا۔"

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر علم و تدریس کی معاشی و معاشرتی زندگی میں اہمیت اور ترقی و خوشحالی میں بنیادی حیثیت کو اجاگر کرنا اپنا قومی فرض سمجھتا ہے۔”

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم نہ صرف کسی قوم کی نظریاتی، معاشی اور سائنسی بنیادوں کو مستحکم کرتی ہے بلکہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو فرد کو بااختیار، باوقار اور خود کفیل بناتا ہے۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح محض 60 فیصد ہے، جو کہ عالمی معیار کے ساتھ ساتھ خطے کے دوسرے ممالک سے بھی کم ہے۔

تعلیم: قوم کی تعمیر کا بنیادی ستون

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تعلیم صرف اسکول جانے یا سند حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی سوچ اور شعور کا عمل ہے جو فرد کو اپنے اردگرد کے حالات کو سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے اور سماجی ترقی میں کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "آج کے جدید دور میں علم ہی وہ طاقت ہے جو قوموں کو غلامی سے نکال کر خود مختاری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ اس لیے بحیثیت قوم، ہمیں تعلیم کو صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ اولین ترجیح سمجھنا ہو گا۔”

وفاق اور صوبے ایک صفحے پر — تعلیم کے فروغ کے لیے متفق

وزیراعظم نے واضح کیا کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں اس وقت تعلیم کے فروغ، تدریسی نظام کی بہتری، اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"ہم سب ایک قومی مشن پر گامزن ہیں — ایک ایسا مشن جس کا ہدف ہے کہ کوئی بچہ، کوئی نوجوان، اور کوئی فرد تعلیم کے نور سے محروم نہ رہے۔”

وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے جن میں اسکولوں کی بحالی، اساتذہ کی تربیت، جدید نصاب کی تیاری، ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کا قیام، اور آن لائن تعلیم کے پلیٹ فارمز کی توسیع شامل ہے۔

ہنر، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم پر بھی توجہ لازم

اپنے خطاب میں شہباز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف بنیادی تعلیم کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو ہنر مند اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں ایک ایسی نسل تیار کرنی ہے جو نہ صرف تعلیم یافتہ ہو بلکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت یافتہ بھی ہو۔”

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اسکولوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹس کو بھی فعال کر رہی ہے تاکہ طلبا کو عملی زندگی کے لیے تیار کیا جا سکے۔

تعلیم کے بغیر ترقی کا خواب ادھورا ہے

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جنہوں نے تعلیم کو اپنی بقا، استحکام اور ترقی کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کے بغیر ترقی، امن اور خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ خواندگی کے فروغ کے لیے حکومت کی کوششیں اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتیں جب تک پوری قوم اس مشن کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، میڈیا، علمائے کرام، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ تعلیمی شعور پھیلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

عالمی یومِ خواندگی – عزمِ نو کی ضرورت

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج کا دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے تعلیم کے میدان میں اب تک کیا حاصل کیا، اور کن خامیوں کو دور کرنا ہے۔ "یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ پاکستان ہی خوددار، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان بن سکتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ حکومت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ تعلیم کے ہر دروازے کو کھولنے اور ہر بچے کو علم کے نور سے منور کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔


وزیراعظم کا پیغام:

"تعلیم صرف ایک فرد کا حق نہیں، بلکہ پوری قوم کی ترقی کی ضمانت ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس عزم کی تجدید کریں کہ ہم پاکستان کو علم کا گہوارہ بنائیں گے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button