پاکستاناہم خبریں

وزیر اعظم شہباز شریف کی دوحہ میں ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت، فلسطین کے حق میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ہم صرف بیان بازی کے قائل نہیں، پاکستان ہر فورم پر فلسطینی بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ:

وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والی ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم، غزہ پر جاری فضائی حملوں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ اس اہم بین الاقوامی اجلاس میں اسلامی دنیا کے متعدد ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

غزہ میں اسرائیلی مظالم پر مسلم اُمہ کی اجتماعی آواز

اس کانفرنس کا انعقاد موجودہ حالات میں نہایت اہمیت کا حامل تھا، جہاں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ انسانی بنیادوں پر پیدا ہونے والے سنگین بحران، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں پر حملوں، اور محاصرے کی صورت حال نے پوری مسلم دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس تناظر میں، قطر کی قیادت میں بلایا گیا یہ ہنگامی اجلاس اسلامی ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

وزیراعظم کا پرزور خطاب: "فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، خاموش تماشائی نہیں بن سکتے”

وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے جارحانہ عزائم اور مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق سے محروم کرنا عالمی ضمیر کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا:

"ہم صرف بیان بازی کے قائل نہیں، پاکستان ہر فورم پر فلسطینی بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا متحد ہو کر ایک واضح اور مؤثر مؤقف اختیار کرے۔ ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔”

انہوں نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ میں قتل عام روکا جا سکے اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم کی مسلم رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

دوحہ میں قیام کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف مسلم ممالک کے سربراہان و نمائندگان سے ملاقاتیں بھی کیں جن میں سعودی عرب، ترکی، ایران، انڈونیشیا، ملیشیا، اور مصر کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون، مسلم امہ کے اتحاد، اور فلسطینی کاز پر مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان ملاقاتوں میں وزیر اعظم نے تجویز دی کہ مسلم دنیا کو محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ فلسطین کے لیے مشترکہ فنڈ کا قیام، میڈیا پر مؤثر بیانیہ، اور سفارتی محاذ پر متحرک مہم۔

پاکستان کی اصولی پالیسی کی تجدید

وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنی دیرینہ پالیسی پر قائم ہے، جس کے مطابق فلسطینیوں کو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد ریاست دی جانی چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ اسرائیلی جارحیت نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی اخلاقیات کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، جس پر فوری اور ٹھوس اقدام ناگزیر ہے۔

کانفرنس کا اعلامیہ اور مشترکہ موقف

کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ میں اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ:

  • اسرائیل فوری طور پر غزہ پر حملے بند کرے؛

  • فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکی جائیں؛

  • عالمی ادارے فوری طور پر انسانی امداد فراہم کریں؛

  • مسلم ممالک فلسطین کے حق میں مشترکہ سفارتی اور معاشی اقدامات پر غور کریں۔

عوامی سطح پر بھی سراہا گیا مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف کی دوحہ کانفرنس میں شرکت اور دوٹوک خطاب کو نہ صرف ملکی سطح پر سراہا گیا بلکہ عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے بھی اسے ایک مؤثر سفارتی قدم قرار دیا۔ پاکستان کے عوامی و سیاسی حلقوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومت نے فلسطین کے کاز پر ایک فعال، مؤثر اور جرات مندانہ مؤقف اپنایا ہے۔


اختتامیہ:
دوحہ میں ہونے والی اس ہنگامی کانفرنس نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا کہ مسلم دنیا جب متحد ہو کر بات کرتی ہے تو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت اور مؤثر سفارتکاری سے پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہر حال میں کھڑا ہے — صرف زبانی نہیں، عملی طور پر بھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button