پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

تعلیم کے لیے طالبات کا وژن: پنجاب اسمبلی میں طالبات نے پیش کیے عملی مطالبات

“تعلیم کو نہ صرف ایک سماجی ترجیح بلکہ ایک معاشی محرک کے طور پر بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔”

لاہور (خصوصی نمائندہ):
پنجاب اسمبلی کے تاریخی پرانے ہال میں ایک غیر معمولی تعلیمی و پالیسی ڈائیلاگ “تعلیم کے لیے طالبات کا وژن” کا انعقاد کیا گیا، جس میں سکینڈری اسکول کی طالبات کو پہلی مرتبہ براہِ راست موقع دیا گیا کہ وہ اپنے تعلیمی مسائل، تجاویز اور ترجیحات قانون سازوں، تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے سامنے پیش کریں۔ اس منفرد ڈائیلاگ کا اہتمام یوتھ ٹیوب نے پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی ڈویلپمنٹ یونٹ کے اشتراک سے کیا۔

تعلیم کو معاشی محرک بنانے پر زور

ڈائیلاگ کی صدارت کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی محترمہ مہوش سلطانہ نے کہا:

“تعلیم کو نہ صرف ایک سماجی ترجیح بلکہ ایک معاشی محرک کے طور پر بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹوں کو دور کرنے اور ڈراپ آؤٹ کی شرح کو کم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ ایس ڈی جی 4 (معیاری تعلیم) کو ایس ڈی جی 5 (صنفی برابری) سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم نہ صرف انفرادی بلکہ معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔

"میٹرک ٹیچ” پروگرام کا اعلان

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم کے مشیر، جناب شکیل احمد بھٹی نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے "میٹرک ٹیچ” پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد طلبہ کو روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا:

“یہ پروگرام نوجوانوں کو آئی او ٹی، گرافک ڈیزائن، فیشن ڈیزائننگ، پلمبنگ اور دیگر شعبوں میں ہنر سکھا کر انہیں روزگار کے قابل بنا رہا ہے۔ اب تک 52,000 سے زائد طلبہ اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں۔”

طالبات کی کارکردگی میں برتری

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر، محمد علی نے انکشاف کیا کہ سال 2024 کے میٹرک امتحانات میں لڑکیوں نے مجموعی طور پر لڑکوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے جاری اسکالرشپس، ای-بائیکس، اور لیپ ٹاپ اسکیمز کو سراہا، جن کی بدولت کئی بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد ملی ہے۔

سول سوسائٹی کا مطالبہ: نصاب میں جدت اور مشاورت

یوتھ ٹیوب کے سی ای او، اقبال حیدر بٹ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ تعلیمی نصاب کو مزید عملی، متحرک اور سرگرمی پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ بہتر طور پر سیکھ سکیں اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹ سکیں۔

اسٹوڈنٹ کاؤنسلر، سارنگ عامر نے اسکولوں میں موثر اور باقاعدہ کاؤنسلنگ سروسز قائم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ طالبات کو تعلیمی و پیشہ ورانہ راہیں منتخب کرنے میں رہنمائی میسر ہو۔

طالبات کے مطالبات: سہولیات، مہارتیں، اور محفوظ تعلیمی ماحول

اجلاس میں شریک طالبات نے اپنے مطالبات واضح انداز میں پیش کیے جن میں درج ذیل شامل تھے:

  • جدید لائبریریوں اور سائنس لیبارٹریوں کی دستیابی

  • کھیل کے میدان اور ہم نصابی سرگرمیوں کی سہولیات

  • ہر اسکول میں مستقل کمپیوٹر اساتذہ کی تعیناتی

  • خستہ حال اسکول عمارتوں کی فوری مرمت

  • تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ اور فنی تربیت کی فراہمی

طالبات نے ان مطالبات کو نہ صرف زبانی طور پر پیش کیا بلکہ تحریری صورت میں بھی مرتب کر کے متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا تاکہ ان پر عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

مصنوعی ذہانت اور تعلیم کا مستقبل

پروجیکٹ افسران، مزمل مجید اور حسین سجاد ہاشمی نے مستقبل کی تعلیم میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا کہ طلبہ کو نئی ٹیکنالوجیز سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں تو پاکستان کی نوجوان نسل عالمی سطح پر مقابلہ کر سکتی ہے۔

پالیسی سازوں کو سفارشات کی فراہمی

منتظمین نے اعلان کیا کہ طالبات کی تمام سفارشات کو ایک باضابطہ پالیسی ڈاکیومنٹ کی صورت میں پنجاب اسمبلی اور سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ان پر باقاعدہ فالو اپ کارروائی کی جا سکے۔ اس عمل سے نہ صرف طالبات کے مسائل اجاگر ہوں گے بلکہ آئندہ تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مدد ملے گی۔


نتیجہ:
"تعلیم کے لیے طالبات کا وژن” ایک تاریخی اور بامعنی قدم ثابت ہوا، جس نے نہ صرف لڑکیوں کو آواز دی بلکہ حکومت، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کو طالبات کی اصل ضروریات سے آگاہ کیا۔ اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو یہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button