پاکستاناہم خبریں

ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن: سات انڈین اسپانسرڈ خوارج، بشمول تین افغان دہشت گرد، ہلاک

دو خودکش بمبار بھی مارے گئے، علاقہ کلئیرنس آپریشن جاری – پاکستان کا افغان حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی کے ساتھ:
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے حساس علاقے کلاچی میں ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران انڈین پراکسی دہشت گرد تنظیم "فتنہ الخوارج” سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مارے جانے والوں میں تین افغان شہری، دو خودکش بمبار اور دیگر انتہائی مطلوب عناصر شامل تھے جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔

آپریشن کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق، 20 ستمبر کی شام سیکیورٹی فورسز کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ کلاچی کے ایک مخصوص علاقے میں انڈین اسپانسرڈ خوارج چھپے ہوئے ہیں اور کسی بڑی دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاع ملنے پر فورسز نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کیا اور نہایت منظم انداز میں کارروائی کا آغاز کیا۔

آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے مزاحمت کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بروقت حکمت عملی، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث دہشت گرد اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہو گئے اور سات دہشت گرد انجام کو پہنچا دیے گئے۔

ہلاک ہونے والے خوارج کی تفصیل

مارے جانے والے خوارج میں شامل تھے:

  • تین افغان شہری جن کی شناخت تفتیشی عمل کے بعد ظاہر کی جائے گی۔

  • دو خودکش بمبار جو ممکنہ طور پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

  • دیگر دو مقامی سہولت کار جو انڈین پراکسی نیٹ ورک سے منسلک تھے۔

علاقہ کلئیرنس اور سرچ آپریشن جاری

سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے میں سینیٹائزیشن اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا چھپے ہوئے دیگر دہشت گردوں کو ختم کیا جا سکے۔ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور مقامی آبادی کے تعاون سے ممکنہ سہولت کاروں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت

ذرائع کے مطابق، اس آپریشن کے دوران برآمد ہونے والا مواد، ڈیجیٹل شواہد، اور انٹیلی جنس رپورٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہلاک ہونے والے خوارج کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ "فتنہ الخوارج” جیسے نیٹ ورکس کے ذریعے بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے، فرقہ واریت کو ہوا دینے، اور اہم قومی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سازشیں کر رہا ہے۔

افغان حکومت سے دو ٹوک مطالبہ

پاکستان نے ایک بار پھر افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق:

"پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور ایسے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فوری، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان کی پالیسی: دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی ادارے ملک سے ہر قسم کی انڈین اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ حالیہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن کے کسی بھی ناپاک عزائم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر ایسی سازش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق:

"ہماری فورسز ملک کے کونے کونے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سرگرم ہیں، اور انٹیلی جنس شیئرنگ، ٹیکنالوجی اور عوام کے تعاون سے ہر قیمت پر امن کو یقینی بنایا جائے گا۔"

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button