پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں اغوا کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل کے قتل کی تصدیق، لاش تاحال برآمد نہ ہو سکی

"شہید اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔"

ناصر خان خٹک-پاکستان وائس آف جرمنی کے ساتھ:
بلوچستان کے ضلع زیارت سے ڈیڑھ ماہ قبل اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی کے بہیمانہ قتل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اتوار کے روز جاری ایک سرکاری بیان میں محمد افضل کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ریاست کے ایک وفادار افسر کی قربانی قرار دیا۔ تاہم تاحال مقتول افسر اور ان کے نوجوان بیٹے مستنصر بلال کی لاشیں برآمد نہیں کی جا سکیں۔

فرض کی ادائیگی میں جان قربان کرنے والے افسر

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا:

"شہید اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ بزدلانہ اور سفاکانہ کارروائی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت محمد افضل کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


لاش کی تلاش جاری، تین مقامات کی نشاندہی

ہرنائی کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ:

"ضلع ہرنائی کے علاقے زرد آلو کی پہاڑیوں میں دو لاشیں دیکھنے کی اطلاع پر لیویز، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ نے فوری سرچ آپریشن شروع کیا۔ تین مشتبہ مقامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے دو کلیئر کر دیے گئے ہیں، جبکہ تیسری جگہ کوہِ خلَفت کی بلندیوں پر واقع ہے، جہاں سرچ آپریشن اندھیرے اور دشوار گزار راستوں کے باعث تعطل کا شکار ہے۔”

ڈرون کی مدد لی جا رہی ہے لیکن اندھیرا اور پہاڑی زمین کی پیچیدگیوں کے باعث پیش رفت سست ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ لاش کی برآمدگی سے قبل حتمی تصدیق ممکن نہیں۔


سوشل میڈیا پر تصویر، لیکن کوئی حتمی تصدیق نہیں

سوشل میڈیا پر ایک ضعیف العمر شخص کی خون آلود لاش کی تصویر گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ محمد افضل کی لاش ہے۔ تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہرنائی نے خبردار کیا ہے کہ:

"جب تک لاش کا معائنہ اور قانونی شناخت نہیں ہوتی، ہم کسی بھی دعوے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔”


اغوا کیسے ہوا؟

10 اگست 2025 کو اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل باقی کو اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ زیارت کے سیاحتی مقام زیزری میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ پکنک منا رہے تھے۔ مسلح افراد نے حملہ کر کے انہیں، ان کے بیٹے مستنصر بلال، ڈرائیور اور محافظوں کو یرغمال بنایا۔ چند گھنٹوں بعد ڈرائیور اور محافظوں کو چھوڑ دیا گیا، لیکن باپ بیٹے کو پیدل پہاڑوں کی طرف لے جایا گیا اور ان کی سرکاری گاڑی کو جلا دیا گیا۔

اغوا کے واقعے نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ حکومت بلوچستان نے مجرموں کی اطلاع دینے پر پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔


رہائی کی اپیل، مگر مطالبات واضح نہیں

تقریباً ایک ہفتہ قبل اغوا کاروں کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں محمد افضل اور ان کے بیٹے کو نحیف حالت میں دیکھا گیا۔ ویڈیو میں انہوں نے حکومت سے رہائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا:

"میں اور میرا بیٹا ٹھیک ہیں، لیکن بہت مشکل میں ہیں۔ اغوا کاروں کے مطالبات جلد پورے کیے جائیں تاکہ ہمیں رہا کیا جا سکے۔”

تاہم اغوا کاروں کے مطالبات کیا تھے اور کونسی تنظیم ملوث ہے؟—اس بارے میں کوئی واضح معلومات اب تک سامنے نہیں آئیں۔


محمد افضل باقی کی زندگی اور خدمات

محمد افضل کا تعلق ڈیرہ غازی خان، پنجاب سے تھا۔ وہ محکمہ مال میں بطور قانون گو بھرتی ہوئے اور محنت سے ترقی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے تک پہنچے۔ وہ اس ماہ (ستمبر 2025) اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہونے والے تھے۔ ان کی پوسٹنگ زیارت میں تھی جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سیاحت کے لیے گئے تھے۔

انہوں نے زیارت، ہرنائی، اور دیگر اضلاع میں نائب تحصیلدار، تحصیلدار اور اے سی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ افسران اور عوامی حلقوں میں انہیں ایک فرض شناس، ایماندار اور نرم گو افسر کے طور پر جانا جاتا تھا۔


بلوچستان میں انتظامی افسران پر بڑھتے ہوئے حملے

یہ پہلا واقعہ نہیں جب بلوچستان میں اعلیٰ انتظامی افسران کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ حالیہ برسوں میں کئی واقعات پیش آ چکے ہیں:

  • جون 2025: ضلع کیچ سے اسسٹنٹ کمشنر محمد حنیف نورزئی اغوا، ساڑھے تین ماہ بعد رہائی۔

  • مئی 2025: ضلع سوراب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی شدت پسندوں کے حملے میں شہید۔

  • اگست 2024: ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ مستونگ میں فائرنگ سے قتل۔

یہ تمام واقعات ایک سنگین سیکیورٹی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں سول افسران کو لاحق ہے۔


وزیراعلیٰ بلوچستان کا مؤقف

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ:

"شہید محمد افضل کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ بلوچستان میں سول اداروں کے افسران پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے۔”

انہوں نے وفاقی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور عدلیہ سے بھی اس سنگین معاملے پر سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی۔


ریاست کی آزمائش اور عوام کی اُمید

محمد افضل کی المناک شہادت ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں تعینات سول افسران نہ صرف ترقیاتی اور انتظامی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں بلکہ اپنی جانوں کی بازی بھی لگا رہے ہیں۔ ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا، صرف صوبائی نہیں بلکہ قومی ذمہ داری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button