
یو این ڈی پی اور پنجاب حکومت کے درمیان انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق اشتراکِ عمل پر
ڈاکٹر سیموئیل رزک اور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے درمیان اہم ملاقات، ادارہ جاتی مضبوطی اور انسانی حقوق کے فروغ پر تبادلہ خیال
لاہور (اسپیشل رپورٹر)
اقلیتوں کے حقوق، انسانی وقار کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پنجاب حکومت اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے درمیان اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ اتفاق یو این ڈی پی کے ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹیو ڈاکٹر سیموئیل رزک اور پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کے درمیان محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور، لاہور میں ہونے والی اہم ملاقات کے دوران سامنے آیا۔
پنجاب میں انسانی حقوق و اقلیتوں کے تحفظ پر یو این ڈی پی کا اطمینان
ڈاکٹر سیموئیل رزک نے پنجاب حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے حقوق، صنفی مساوات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ:
"یو این ڈی پی پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص انسانی حقوق کے فروغ کے لیے حکومت کے ساتھ اپنی شراکت داری کو جاری رکھے گا۔”
انہوں نے حالیہ سیلابی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ضلع نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سکھ و دیگر اقلیتی برادریوں کے حالات کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، نیشنل ایکشن پلان 2026 پر عملدرآمد کا عزم
ڈاکٹر رزک نے ادارہ جاتی مضبوطی (Institutional Strengthening) کے لیے تکنیکی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ یو این ڈی پی نہ صرف پالیسی سازی بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے درکار وسائل، تربیت اور مشاورت میں پنجاب حکومت کی معاونت کرے گا۔
انہوں نے خاص طور پر نیشنل ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 اور بزنس اینڈ ہیومن رائٹس جیسے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ یو این ڈی پی ان پالیسیوں کو زمینی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔
اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پنجاب حکومت کا عملی عزم: رمیش سنگھ اروڑہ
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے ملاقات کے دوران یو این ڈی پی کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ:
"پنجاب حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مکمل اور دیرپا حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس ضمن میں محکمہ اقلیتی امور ایک پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان تشکیل دے رہا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ:
سکھ میرج ایکٹ نافذ کیا جا چکا ہے
ہندو میرج ایکٹ کے قواعد (رولز) کی منظوری دے دی گئی ہے
مسیحی میرج ایکٹ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے
انہوں نے پہلی بار اقلیتی نوجوانوں کو سول سروسز اکیڈمی میں داخلہ دلوانے، اور ای لرننگ پروگرام کو قومی و بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی کا بھی ذکر کیا۔
بھارتی حکومت کا فیصلہ قابلِ مذمت: رمیش سنگھ اروڑہ
وزیر اقلیتی امور نے بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو پاکستان نہ بھیجنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے:
"بین المذاہب تعلقات کے منافی، افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیا۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کو ان کے مذہبی مقامات تک رسائی اور مکمل آزادی فراہم کرتا ہے، جو دنیا بھر کے لیے ایک مثال ہے۔
ملاقات میں دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت
اس اہم ملاقات میں یو این ڈی پی کے اسسٹنٹ ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹیو رانا قیصر اسحاق، پراونشل ہیومن رائٹس آفیسر مدیحہ فرید، ایڈیشنل سیکرٹری انسانی حقوق رضوانہ نوید اور کنسلٹنٹ سید عمران سجاد بھی موجود تھے۔ اجلاس میں مختلف مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمد، ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام کی بہتری، اور پالیسی ان پٹ جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔
اختتامیہ: شراکت داری کا تسلسل، انسانی وقار کا تحفظ
ملاقات کے اختتام پر ڈاکٹر سیموئیل رزک نے کہا کہ:
"یو این ڈی پی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھے گا۔”
جبکہ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے عالمی اداروں کی جانب سے ملنے والے اعتماد کو پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر اظہارِ اطمینان قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"ہم تمام اقلیتوں کو برابر کے شہری مانتے ہیں، اور آئندہ بھی ان کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پُرعزم ہیں۔”



