
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — پاکستان کے عظیم ہیرو میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کی 67ویں یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر میں ان کی لازوال قربانی کو یاد کیا گیا، جبکہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کے مزار پر حاضری دے کر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس پُرعزم تقریب میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، اور چیف آف دی ایئر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے شرکت کی۔ افواجِ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے شہید کے مزار پر پھول چڑھائے گئے اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
مادرِ وطن کا بہادر سپاہی
میجر طفیل محمد شہید نے 7 اگست 1958 کو سابق مشرقی پاکستان کے لکشمی پور سیکٹر میں دشمن کے ساتھ جھڑپ کے دوران ناقابلِ فراموش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
انہوں نے نہ صرف دشمن کی گولیوں کی پرواہ کیے بغیر حملے کی قیادت کی بلکہ شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے ٹھکانے تباہ کیے اور اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کیا۔
ناقابلِ تسخیر حوصلے کی علامت
میجر طفیل محمد شہید کی بے مثال جرات، استقامت اور قیادت نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر” کا حق دار ٹھہرایا۔ ان کی یہ قربانی آج بھی پاکستان کے نوجوانوں اور مسلح افواج کے لیے شجاعت اور حب الوطنی کا مینار ہے۔
شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا
اس موقع پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا:
"پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کرنے والے تمام شہداء کو سلام پیش کرتی ہیں۔ میجر طفیل محمد شہید کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن، خودمختاری اور قومی وقار کی قیمت ہمیشہ بہادری اور ایثار سے ادا کی گئی ہے۔ پاکستان اپنے ان ہیروز کا ہمیشہ مقروض رہے گا۔”
قومی یکجہتی اور حب الوطنی کی مثال
تقریب میں قومی ترانے اور شہداء کی یاد میں خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ افواجِ پاکستان کے جوانوں نے یہ عہد کیا کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور پاکستان کی سلامتی، یکجہتی، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قربانی دیں گے۔



