
ڈی جی آئی ایس پی آر کا پلندری میں طلبہ سے خطاب: "کشمیر بنے گا پاکستان” کا عزم دہرایا
"آزاد کشمیر میں ایک فعال اور جمہوری سیاسی نظام کام کر رہا ہے۔ اگر ریاست ٹیکس وصول نہ کرے، تو سرکاری مراعات اور تنخواہیں کس طرح دی جا سکتی ہیں؟"
پلندری (خصوصی نمائندہ) — پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے 15 ستمبر کو پلندری آزاد کشمیر میں مختلف جامعات کے ایک ہزار سے زائد طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کیا۔ اس اہم تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے نوجوانوں سے براہِ راست بات چیت کی، ان کے سوالات کے کھلے دل سے جوابات دیے، اور قومی و علاقائی معاملات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
طلبہ سے براہِ راست مکالمہ، سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل
خطاب کے دوران طلبہ نے مختلف موضوعات پر سوالات کیے، جن میں سے کئی ایک کے جوابات پر مبنی کلپس بعدازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔ ان کلپس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی صاف گوئی، مدلل گفتگو، اور قومی بیانیے سے جڑے خیالات کو خاصی پذیرائی ملی۔
عوامی ایکشن کمیٹی اور حالیہ احتجاجات پر مؤقف
ایک طالبعلم کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی اور آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاجی مظاہروں سے متعلق سوال کیا گیا، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مدلل انداز میں کہا:
"آزاد کشمیر میں ایک فعال اور جمہوری سیاسی نظام کام کر رہا ہے۔ اگر ریاست ٹیکس وصول نہ کرے، تو سرکاری مراعات اور تنخواہیں کس طرح دی جا سکتی ہیں؟”
انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں 30 فیصد سے زائد افراد کسی نہ کسی طور پر سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں، اور ان کے روزگار اور سہولیات کا دارومدار ریاستی آمدن پر ہوتا ہے۔ اس لیے عوام کو احتجاج کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن احتجاج کو انتشار میں تبدیل کرنا ملک و قوم دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آزاد کشمیر کے ترقیاتی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"آزاد کشمیر میں تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے اشاریے (Indicators) باقی ملک کی نسبت بہتر ہیں، اور یہ سب ریاستی استحکام اور اداروں کی فعالیت کا ثبوت ہے۔”
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ مثبت سرگرمیوں، تعلیمی ترقی اور قومی تعمیر کی طرف مرکوز رکھیں، تاکہ مستقبل کا کشمیر اور مضبوط پاکستان تشکیل دیا جا سکے۔
کشمیر کا مستقبل: "کشمیر بنے گا پاکستان”
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے قائداعظم محمد علی جناح کے کشمیر سے جذباتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"اللہ تعالیٰ نے کشمیر کو بے پناہ قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے نوازا ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، اور یہی تعلق آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔”
انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ:
"پاک فوج میں درجنوں کشمیری افسران اور جوان ملک کی خدمت انجام دے رہے ہیں، اور کشمیر کا مستقبل صرف اور صرف ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ ہے۔”
نوجوانوں سے امیدیں وابستہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، اور انہیں قومی بیانیے، نظریہ پاکستان، اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے باخبر اور باوقار کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں، اور تحقیق و فہم کی بنیاد پر رائے قائم کریں۔
نتیجہ: مکالمے کی نئی روایت
پلندری میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ مکالمہ نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ ایک مثبت مکالمے کی روایت کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں نوجوانوں کو براہِ راست سوال پوچھنے اور قومی سطح کے رہنماؤں سے بات چیت کا موقع ملا۔ اس اقدام کو سراہتے ہوئے مختلف حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسے مکالمے دیگر علاقوں میں بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوان نسل اور اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔



