اہم خبریںپاکستان

اسلام آباد میں بھارتی سرپرستی میں نیا دہشت گرد حملہ — “فتنہ الخوارج” کا خودکش دھماکہ 12 افراد ہلاک، متعدد افراد شہید و زخمی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 12 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز سیکورٹی فورسز کے ساتھ

پاکستان ایک بار پھر بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستانی حمایت یافتہ اور افغان طالبان سے وابستہ پراکسی گروپ "فتنہ الخوارج” نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر G-11 ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر خودکش حملہ کیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ منگل کی دوپہر عدالت کے احاطے کے باہر اس وقت ہوا جب وہاں شہری، وکلاء اور پولیس اہلکار معمول کی کارروائی کے لیے موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو عدالت میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس کے بعد اس نے اپنے جسم سے بندھی بارودی جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

جائے وقوعہ اور فوری ردعمل

دھماکہ عدالت کے سامنے کے گیٹ کے بالکل سامنے ہوا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ علاقے میں ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا، کئی گاڑیاں جل اُٹھیں اور لوگ چیختے ہوئے بھاگے۔ پولیس نے فوری طور پر علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اور دیگر نزدیکی ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا؛ وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ خودکش حملہ قرار پایا ہے اور حملہ دوپہر 12:39 پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح حملہ آور کی شناخت ہے اور ثبوت حاصل کرنے کے لیے فورنزک ٹیمیں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کو جلد از جلد حاصل کیا جا رہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور گیٹ کے سامنے تقریباً 10-15 منٹ انتظار کرتا رہا جب اس نے موقع نہ ملنے پر اپنی کارروائی انجام دی۔

دھماکے کی نوعیت اور جانی نقصان

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکہ انتہائی طاقتور نوعیت کا تھا۔ پانچ افراد موقع پر ہی شہید جبکہ تیرہ سے چودہ زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار، ایک وکیل اور دو شہری شامل ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں قریبی گاڑیاں تباہ، دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پورے علاقے میں دھواں پھیل گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ ایک وکیل نے بتایا کہ “میں ابھی عدالت کے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ زور دار دھماکہ ہوا، ہر طرف افراتفری مچ گئی، لوگ چیخ رہے تھے، گاڑیوں میں آگ لگ گئی، اور زخمی زمین پر تڑپ رہے تھے۔”

ذمہ داری اور پس منظر

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کی رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ "غیر اسلامی قوانین کے تحت فیصلے دینے والے ججز، وکلاء اور دیگر حکام” کو نشانہ بناتے رہیں گے اور مزید حملوں کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

حکومت اور سیکورٹی فورسز واقعے کی ممکنہ تمام جہتوں سے تفتیش کر رہی ہیں اور ابتدائی تشخیص کے مطابق حملہ اسی بساطِ کار کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں عدالتیں اور عدالتی عملے کو بطور ہدف لیا جا رہا ہے۔

حملہ آور کی شناخت

ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور کا کٹا ہوا سر جائے وقوعہ سے برآمد ہوا، جسے فرانزک ٹیم نے تحویل میں لے لیا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد جدید ساخت کا تھا، جو ممکنہ طور پر سرحد پار سے اسمگل کیا گیا۔

بھارتی پراکسی نیٹ ورک اور افغان روابط

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” (RAW) کے زیرِ اثر کام کرنے والے گروپ “فتنہ الخوارج” ملوث ہیں، جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے افغانستان میں موجود اپنے پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے اس گروہ کو فنڈنگ اور ہتھیار فراہم کیے۔ حملے کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا اور عدالتی نظام کو نشانہ بنانا تھا۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل وانا کیڈٹ کالج پر بھی اسی نیٹ ورک نے حملہ کیا تھا۔

سیکیورٹی اداروں کی کارروائی

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، رینجرز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ عدالت کی عمارت کو خالی کرایا گیا اور G-11 سیکٹر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔
زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

فورنزک ماہرین نے جائے وقوعہ سے بارودی مواد، تاریں، لوہے کے ٹکڑے اور موبائل سرکٹ برآمد کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ اعلیٰ تربیت یافتہ نیٹ ورک کی منصوبہ بندی سے کیا گیا۔

حکومتی ردعمل

وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حملہ “خودکش” نوعیت کا تھا، اور حملہ آور کا ہدف عدالتی احاطہ تھا۔
انہوں نے کہا:

“یہ پاکستان کے امن اور انصاف کے نظام پر حملہ ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ہم ان کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں گے۔”

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی پراکسی دہشت گردی پاکستان کے خلاف ایک طویل جنگ کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم نے سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔

پس منظر اور علاقائی صورتحال

ذرائع کے مطابق “فتنہ الخوارج” گروہ کا قیام گزشتہ سال افغانستان میں عمل میں آیا۔ اس گروہ کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بھارتی خفیہ اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فرقہ واریت، افراتفری اور ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت کو ہوا دینا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی دہلی میں عالمی برادری کو یہ تاثر دینے میں مصروف ہیں کہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہے، جب کہ درحقیقت ان کے خفیہ نیٹ ورک پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔

عوامی اور سماجی ردعمل

اسلام آباد میں دھماکے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ عدالت کے اطراف کی سڑکیں بند کر دی گئیں، تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں، اور شہریوں نے حکومت سے سخت سیکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
وکلاء برادری نے بھی حملے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدالتی اداروں کو دہشت گردی سے محفوظ بنایا جائے۔

نتیجہ

یہ خودکش حملہ نہ صرف پاکستان کی سلامتی کے خلاف بلکہ عدلیہ، انصاف اور شہری تحفظ پر ایک براہِ راست وار ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کارروائی بھارتی خفیہ ادارے "را” کی فنڈنگ اور افغان پراکسی گروپوں کے تعاون سے کی گئی، جس کا مقصد پاکستان میں انتشار، خوف اور عدم استحکام پھیلانا ہے۔

فتنہ الخوارج — وہی پراکسی، وہی دشمن، وہی ایجنڈا: پاکستان کو غیر مستحکم کرو۔
لیکن قوم متحد ہے، اور دشمنوں کے ناپاک عزائم ایک بار پھر خاک میں ملیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button