
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شدت پسند گروہ نہ صرف افغانستان بلکہ پوری خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں، بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، اور واضح کیا کہ اگر کابل ایسا قدم اٹھاتا ہے تو پاکستان ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔
بین الپارلیمانی کانفرنس 2025 — اسلام آباد میں خطاب
وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں منعقدہ “بین الپارلیمانی کانفرنس 2025” سے خطاب کر رہے تھے، جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز، وزراء، اور نمائندہ وفود نے شرکت کی۔
کانفرنس کا موضوع “امن، سلامتی اور ترقی” تھا — جس کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ:
“یہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم اس اہم موقع پر دنیا کے پارلیمانی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے ہیں۔ امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
افغانستان سے متعلق دوٹوک مؤقف
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کا دارومدار افغانستان پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ:
“پائیدار امن کا دارومدار کابل پر ہے کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول کرے۔ بدقسمتی سے دہشت گرد گروہ افغانستان کے ساتھ پاکستان میں بھی بدامنی کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی کریں تو ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی زمین کو کسی بھی پڑوسی ملک، خصوصاً پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان امن چاہتا ہے، تصادم نہیں۔
مشرقی محاذ پر دشمن کی کارروائیاں اور پاکستان کا دفاع
وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کے مشرقی بارڈر سے ہونے والی اشتعال انگیزیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، رواں سال دشمن قوتوں نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ انداز میں دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
“ہماری مسلح افواج نے دفاعِ وطن میں جرات، حکمت اور قربانی کی نئی مثال قائم کی۔ دشمن نے حملہ کیا مگر ہم نے اسے بھرپور جواب دیا۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم اپنی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔”
دہشت گردی کے خلاف عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور دفاعِ وطن میں غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں — لاکھوں شہری اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اپنی جانیں وطن پر قربان کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا اور کسی بھی دہشت گرد نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔
علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی علاقائی امن، ہمسایہ دوستی، اور معاشی تعاون پر مبنی ہے۔ انہوں نے ترکیہ اور قطر کی جانب سے افغان امن کے لیے جاری سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ:
“ہم دوست ممالک کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی کی کوششیں اس خطے میں امن کے لیے نہایت اہم ہیں۔ پاکستان ان تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جو افغان عوام کے بہتر مستقبل اور علاقائی استحکام کے لیے ہوں۔”
دنیا کے لیے پیغام
وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے اصل اسباب — انتہاپسندی، غیر مساوات، اور عدم انصاف — کا حل تلاش کریں۔ ان کے مطابق، غربت اور محرومی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے، اس لیے دنیا کو ترقی اور امن کی پالیسیوں میں توازن لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا:
“دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اور اجاگر کر دیا ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے امن ناگزیر ہے، اور امن اسی وقت ممکن ہے جب انصاف اور مساوات کا بول بالا ہو۔”
عوامی خدمت اور قومی ذمہ داری
وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے خوابوں اور توقعات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے حکومت اپنی تمام توانائیاں صرف کرے گی۔
“عوام نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔ ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ہمارا فرض ہے۔ اس کانفرنس میں ہونے والی دانشمندانہ گفتگو یقینی طور پر ہمارے اجتماعی سفر کو مزید مستحکم کرے گی۔”
اختتامی کلمات
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امن، بھائی چارے اور ترقی کا داعی ملک ہے۔ دشمن چاہے کسی بھی سمت سے حملہ کرے، پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا:
“ہم اپنے خطے کو ترقی، تجارت، اور تعاون کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا پیغام واضح ہے — ہم امن کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر کسی نے جنگ مسلط کی تو ہم اس کا جواب پوری قوت سے دیں گے۔”
خلاصہ:
وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب پاکستان کی خارجہ و سلامتی پالیسی کا واضح اظہار تھا۔ انہوں نے افغانستان پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو لگام ڈالے، پاکستان تعاون کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے دشمن قوتوں کو خبردار کیا کہ پاکستان کے دفاع اور سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
“پرامن افغانستان، خوشحال خطے کی ضمانت ہے — پاکستان امن کا خواہاں ہے، کمزوری کا نہیں۔”



