
سید عاطف ندیم.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو جواب وہی ہوگا جو گزشتہ ماہ مئی میں دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کے روز ایوانِ صدر میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔
مقامی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے، جو خطے میں استحکام چاہتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’’جنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا جیسا کہ مئی میں دیا گیا تھا۔‘‘
’’اللہ نے پاکستان کو سر بلند کیا‘‘ — بھارت کے خلاف کارروائی کا حوالہ
اپنی گفتگو کے دوران آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے بھارت کے خلاف ہونے والی جنگ میں پاکستان کو سر بلند کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے دفاع اور خودمختاری کے لیے مضبوط موقف اختیار کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں، اور قوم کے اعتماد پر پورا اترنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔
غزوۂ اُحد اور قرآنی آیات کا حوالہ
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی بات کو مذہبی پس منظر میں واضح کرتے ہوئے غزوۂ اُحد کا حوالہ دیا اور اس سے متعلق قرآنی آیات بھی بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ کامیابیوں میں اللہ کی مدد شامل ہے، اور بھارت کے خلاف جو فتح ملی وہ اسی نصرتِ الٰہی کا حصہ ہے۔
ایوانِ صدر میں اہم ملاقات: صدر زرداری اور عسکری قیادت کی گفتگو
اس موقع پر ایوانِ صدر میں ایک اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان طویل مشاورت ہوئی۔ ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتِ حال، علاقائی تناؤ، دفاعی معاملات اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔
اس اہم گفتگو میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں، جنہوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تبادلۂ خیال کو سنا۔
اردن کے شاہ عبداللہ کے اعزاز میں ظہرانہ
ملاقات اور گفتگو کا یہ سلسلہ اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں منعقد ظہرانے کے دوران جاری رہا، جو دو روزہ دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور اہم مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، جسے دفاعی اور سفارتی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خطے میں تناؤ اور پاکستان کا دفاعی پیغام
تجزیہ کاروں کے مطابق آرمی چیف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مئی میں ہونے والی مبینہ سرحدی جھڑپوں اور انڈیا کے ساتھ بڑھتی تناؤ کے پس منظر میں ان کا دو ٹوک پیغام پاکستان کے دفاعی موقف کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
پاکستانی قیادت کا مجموعی مؤقف یہی رہا ہے کہ امن اولین ترجیح ہے، لیکن قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔



