
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد — اسلام آباد کچہری میں 11 نومبر کو ہونے والے تباہ کن خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم اور سنسنی خیز پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق خودکش حملہ آور نے کچہری پر حملے سے قبل بھی ایک ناکام خودکش حملے کی کوشش کی تھی، اور یہ کوشش اسلام آباد کی 26 نمبر چونگی پر اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔
پہلی حملے کی کوشش ناکام — ملزمان کا روپوش ہونا
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے 26 نمبر چونگی پر سیکیورٹی اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے خود کو اڑانے کی کوشش کی، تاہم کسی خرابی یا ناکامی کے باعث دھماکہ نہ ہو سکا۔
پہلا حملہ ناکام ہونے کے بعد دہشت گردوں نے اپنا منصوبہ تبدیل کر دیا اور وہ چند ہی گھنٹوں بعد ڈھوک پراچہ کے علاقے میں واقع کرائے کے گھر میں جا کر روپوش ہوگئے۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ حملہ آور اور اس کے سہولت کار کئی دنوں سے اسی علاقے میں رہائش پذیر تھے، جہاں انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی بھی کی۔
سراغ رساں کیمروں سے دہشت گردوں تک رسائی
ذرائع کے مطابق پولیس اور انٹیلی جنس ادارے جدید کیمروں اور نگرانی کے نظام کی مدد سے پہلے گولڑہ اور پھر 26 نمبر چونگی تک دہشت گردوں کے راستوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے۔
اس کے بعد ڈھوک پراچہ میں ایک منظم سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کیا گیا، جو کامیاب ثابت ہوا۔
11 نومبر کا حملہ: 12 شہادتیں، درجنوں زخمی
واضح رہے کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
حملہ آور نے 200 روپے میں رائیڈ بُک کروائی
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ خودکش حملہ آور نے ایک آن لائن موٹرسائیکل رائیڈنگ ایپ کے ذریعے صرف 200 روپے میں رائیڈ بک کروائی اور اسی رائیڈر کی مدد سے اسلام آباد کچہری کے باہر پہنچا۔
پولیس نے موٹرسائیکل رائیڈر کو بھی حراست میں لے لیا تھا، تاکہ حملہ آور کی نقل و حرکت کی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔
فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان گرفتار
دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے وفاقی حکومت کے حساس ادارے انٹیلی جنس بیورو (IB) اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی کے دوران فتح جنگ، جی 11، باجوڑ اور راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں متعدد آپریشن کیے۔
دو روز قبل IB اور CTD نے مشترکہ کارروائی کر کے جوڈیشل کمپلیکس جی-11 پر حملے میں ملوث فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کیا۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ سیل اسلام آباد کے مختلف اہم مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں بھی ملوث پایا گیا۔
گرفتار ہینڈلر ساجد اللہ عرف ’شِینا‘ کا اعترافی بیان
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گرد ساجد اللہ عرف شینا نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ افغان سرحد پار سے فتنۃ الخوارج کے کمانڈر سعیدالرحمٰن عرف داد اللہ / داد اکبر نے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
ملزم نے بتایا کہ داد اکبر کا تعلق باجوڑ کے علاقے چرمکنگ سے ہے اور وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، جہاں وہ ٹی ٹی پی نواگئی، باجوڑ کا انٹیلی جنس چیف ہے۔
خودکش بمبار عثمان عرف ’قاری‘ کی تفصیلات
مزید انکشاف ہوا کہ داد اکبر نے ہینڈلر شینا کو خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر بھجوائیں، تاکہ اسے پاکستان میں وصول کیا جا سکے۔
خودکش حملہ آور عثمان کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین کا رہائشی تھا۔
حملے کا مقصد — زیادہ سے زیادہ جانی نقصان
گرفتار ملزم ساجد اللہ کے مطابق اسلام آباد میں حملے کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا، اور اس کارروائی کے پیچھے ایک منظم عسکریت پسند گروہ سرگرم تھا۔
اختتامی تجزیہ
اسلام آباد کچہری حملے سے متعلق اب تک سامنے آنے والی تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم، بین الاضلاعی اور سرحد پار مربوط نیٹ ورک کی کارروائی تھی۔
تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد حملے سے قبل کئی دنوں تک اسلام آباد میں موجود رہے اور مختلف مقامات پر حملے کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چند ہی دنوں میں اہم گرفتاریاں کر کے دہشت گرد نیٹ ورک کا بڑا حصہ بے نقاب کر دیا ہے، تاہم ماسٹر مائنڈز کی گرفتاری اور افغانستان سے روابط کے خاتمے کے لیے مزید پیشرفت متوقع ہے۔



