مشرق وسطیٰاہم خبریں

ایران کا جوہری پروگرام "برقرار” ہے، امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے باوجود — سعید خطیب زادہ

"ایران کا پرامن جوہری پروگرام برقرار ہے، جیسا کہ ہم کہہ رہے ہیں… اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔"

تہران — ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ملک کی کئی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ایران کا پرامن جوہری پروگرام اب بھی ’’برقرار‘‘ اور جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنی جوہری سرگرمیوں کا دفاع کرے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

اتوار کو ایک خصوصی انٹرویو میں خطیب زادہ نے کہا:
"ایران کا پرامن جوہری پروگرام برقرار ہے، جیسا کہ ہم کہہ رہے ہیں… اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد امریکی فضائی حملوں نے ایران کی فردو، نتنز اور اصفہان سمیت تین مرکزی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جنہیں ایران کے جوہری ڈھانچے کا ستون سمجھا جاتا ہے۔


امریکی اور اسرائیلی حملوں نے "بنیادی ڈھانچہ تباہ” کر دیا

خطیب زادہ نے پہلی بار تسلیم کیا کہ حملوں سے:

  • بنیادی انفراسٹرکچر

  • مشینری

  • اور متعدد عمارتیں

شدید متاثر ہوئی ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ نقصان ایران کے جوہری پروگرام کو ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا:
"ہمارا پروگرام ہمارے مقامی علم پر مبنی ہے… یہ ملک 90 ملین افراد پر مشتمل ہے، یہ کوئی ایسا ملک نہیں کہ آپ بمباری کریں اور سمجھیں کہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔”

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ فورڈو کی تنصیب ’’ختم‘‘ کر دی گئی ہے، جبکہ امریکی انٹیلیجنس نے ابتدائی جائزے میں کہا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام زیادہ سے زیادہ دو سال کے لیے پیچھے جا سکتا ہے۔


یورینیم کی افزودگی رک گئی— ایرانی وزیرِ خارجہ کا اعتراف

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ یورینیم کی افزودگی فی الحال "رکی ہوئی” ہے کیونکہ متعلقہ تنصیبات حملوں میں نقصان کا شکار ہوئیں۔
افزودگی کا عمل وہی ہے جس سے:

  • کم افزودہ یورینیم ایندھن بنتا ہے

  • جبکہ زیادہ افزودگی سے ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں

خطیب زادہ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا افزودگی کا عمل کسی سطح پر جاری ہے۔


IAEA معائنہ نہیں کر سکی — ’’طویل التواء‘‘ رپورٹ

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق:

  • ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی جانچ پڑتال طویل عرصے سے التواء کا شکار ہے

  • ایران نے بمباری شدہ تنصیبات تک معائنہ کاروں کو ابھی تک رسائی نہیں دی

رائٹرز کے مطابق یہ صورتحال ایجنسی کی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔


امریکہ سے بات چیت کا انحصار ’’افزودگی کے حق‘‘ پر ہوگا

خطیب زادہ نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مستقبل کی کوئی بھی ممکنہ بات چیت اسی صورت ہو سکتی ہے جب واشنگٹن تسلیم کرے کہ:

  • ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھ سکتا ہے

  • ایران کی ’’صفر افزودگی‘‘ کی شرط قبول نہیں کی جا سکتی

  • افزودگی ایران کا ’’بنیادی حق‘‘ ہے

انہوں نے کہا:
"ایران کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کوئی آپشن نہیں ہے۔”


ایران کا میزائل پروگرام— ’’مرمت اور بحالی‘‘ کا مرحلہ جاری

الگ گفتگو میں خطیب زادہ نے کہا کہ ایران کے پاس ’’قومی سلامتی کے دفاع‘‘ کے لیے جائز فوجی پروگرام موجود ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اپنا میزائل پروگرام بڑھا رہا ہے، تو انہوں نے کہا:

  • جون میں امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد

  • ایران کا میزائل پروگرام اس وقت ’’مرمت اور بحالی‘‘ کے مرحلے سے گزر رہا ہے

اس سے قبل رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران:

  • اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی رفتار تیز کر رہا ہے

  • اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے باوجود ہتھیار سازی کی استعداد بڑھا رہا ہے

چین کی مدد؟

یورپی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق:

  • چین کی کئی کمپنیاں ایران کے میزائل پروگرام کو تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہیں

  • ستمبر سے چینی کارگو جہاز ایران کو سوڈیم پرکلوریٹ (میزائل ایندھن کا اہم جزو) پہنچا رہے ہیں


چین اور روس کے ساتھ ’’بہت قریبی تعلقات‘‘

خطیب زادہ نے کہا کہ ایران کے:

  • چین

  • اور روس

کے ساتھ تعلقات انتہائی قریبی ہیں، اور علاقائی سیاسی منظرنامے میں یہ تعلقات مزید اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔


امریکہ کے لیے تہران کا پیغام: ’’ہم بقا کے ماسٹر ہیں‘‘

انٹرویو کے آخر میں نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران نہ صرف ایک قوم ہے بلکہ:

"دنیا کی قدیم ترین زندہ، مسلسل تہذیب ہے… اور یہ قوم بقا کی ماسٹر ہے۔”

انہوں نے کہا کہ تہران کسی دباؤ، پابندی یا جارحیت کے نتیجے میں اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔


تجزیہ: ایران کا پیغام — ’’ہم کمزور نہیں ہوئے‘‘

خطیب زادہ کے یہ بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ:

  • ایران اپنی کمزوری کا تاثر زائل کرنا چاہتا ہے

  • امریکہ اور اسرائیل کے بار بار حملوں کے باوجود تہران جوہری سرگرمی جاری رکھنے پر مصر ہے

  • اور چین و روس کے ساتھ اسٹریٹیجک روابط مضبوط کر کے واشنگٹن کو سخت پیغام دینا چاہتا ہے

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی حکمتِ عملی یہ دکھانا ہے کہ:

جوہری پروگرام کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button