پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

بھارتی میڈیا کی من گھڑت خبریں بے نقاب: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کا سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط استعمال

انہوں نے اپنی تقریر میں یاد دلایا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، اور اپنی تقاریر میں کہا کہ پاکستانی فوج نے اندر گھس کر کارروائی کی جس کے اثرات آج تک باقی ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز پی ٹی وی کے ساتھ

بھارتی میڈیا کی جانب سے مسلسل من گھڑت اور غیر مصدقہ خبروں کے پردے فاش ہونے کا سلسلہ ایک بار پھر سامنے آ گیا ہے۔ آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ثابت ہو گئی ہیں، جس پر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح طور پر ردعمل دیا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق، چوہدری انوار الحق نے آزادکشمیر اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران بھارت کی بلوچستان میں دہشت گرد پراکسیز کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی حکمت عملی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یاد دلایا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، اور اپنی تقاریر میں کہا کہ پاکستانی فوج نے اندر گھس کر کارروائی کی جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی جھوٹی خبریں:
چوہدری انوار الحق کے اس بیان کو بھارتی میڈیا نے جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی اس سازش میں اہم کردار ادا کیا۔ گودی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دلی دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان نے کی تھی۔ علاوہ ازیں، ان کے بیان کا غلط ترجمہ کر کے یہ بھی لکھا گیا کہ "بھارت لاشوں کو گن نہیں سکے گا”۔

حقیقت کیا ہے؟
وزارت اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ سابق وزیراعظم کی تقریر میں دلی دھماکے یا بھارت میں کسی حالیہ واقعے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ چوہدری انوار الحق نے صرف تاریخی معرکہ حق کا حوالہ دیا، نہ کہ حالیہ دہشت گرد حملوں کا۔ بھارتی میڈیا نے تراشے ہوئے ویڈیو کلپس اور غلط سب ٹائٹلز کے ذریعے جملوں کے معنی یکسر بدل دیے، جس سے عوام میں غلط فہمی پیدا کی گئی۔

اہم تنبیہ:
ماہرین کا کہنا ہے کہ تراشے ہوئے کلپس اور سنسنی خیز سب ٹائٹلز پر مبنی خبروں پر یقین کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ تاریخی یا سیاسی بیان بازی کو آپریشنل اعترافات کے طور پر پیش کرنا غلط اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ ہر صورت میں مکمل اور مستند تقریر کے متن سے تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے بچا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور معلوماتی جنگ:
یہ واقعہ بھارت میں جاری معلوماتی جنگ کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کی مہم نے کئی بار عوامی ذہنوں میں اشتعال پیدا کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں صارفین کو محتاط رہنا چاہیے اور ہر خبر کی تصدیق کرنا لازمی ہے، تاکہ جھوٹ اور پروپیگنڈا کی چالوں کا شکار نہ ہوں۔

نتیجہ:
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کے معاملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ میڈیا میں سنسنی خیزی اور من گھڑت خبریں عوامی رائے کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ہتھیار بن سکتی ہیں۔ شفاف اور تصدیق شدہ معلومات تک رسائی عوامی فہم کے لیے نہایت ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button