اہم خبریںمشرق وسطیٰ

غزہ پٹی میں جاری فائر بندی کے دوران ہلاکت خیز اسرائیلی فضائی حملے، 33 فلسطینی ہلاک

مختلف ہسپتالوں کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے کیے گئے یہ تازہ فضائی حملے اتنے شدید تھے کہ وہ فائر بندی کے آغاز سے اب تک وہاں اسرائیل کی طرف سے کی گئی سب سے ہلاکت خیز عسکری کارروائیوں میں سے ایک تھے۔

غزہ پٹی میں فائر بندی کے دوران جمعرات 20 نومبر کے روز بڑے اسرائیلی فضائی حملوں میں طبی حکام کے مطابق درجنوں فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ رپورٹوں کے مطابق ان حملوں میں اس فلسطینی علاقے میں قریب 12 گھنٹوں میں 33 فلسطینی مارے گئے۔

غزہ پٹی کے شہر دیر البلح سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی شہر خان یونس میں جمعرات کی صبح سویرے کیے گئے دو اسرائیلی فضائی حملوں میں پانچ افراد مارے گئے۔ جنگ سے تباہ شدہ اس ساحلی پٹی میں مختلف ہسپتالوں کے ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے کیے گئے یہ تازہ فضائی حملے اتنے شدید تھے کہ وہ فائر بندی کے آغاز سے اب تک وہاں اسرائیل کی طرف سے کی گئی سب سے ہلاکت خیز عسکری کارروائیوں میں سے ایک تھے۔

غزہ پٹی کے شمالی حصے میں تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے درمیان بنے راستے سے پیدل گزرتے ہوئے فلسطینی
غزہ پٹی کے شمالی حصے میں تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے درمیان بنے راستے سے پیدل گزرتے ہوئے فلسطینیتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

امریکہ کی قیادت میں کی جانے والی بین الاقوامی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں غزہ کی جنگ میں اسرائیل اور حماس کے مابین طے پانے والی موجودہ فائر بندی 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہوئی تھی۔ اس دوران اب تک ایسا بہت ہی کم دیکھنے میں آیا تھا کہ صرف قریب 12 گھنٹوں میں اس فلسطینی علاقے کے مختلف حصوں میں اسرائیل نے اتنے زیادہ فضائی حملے کیے ہوں کہ ان میں 33 افراد ہلاک ہو جائیں۔

سیز فائر معاہدے کے تاحال نافذ ہونے کے باوجود اسرائیل اور حماس کے مابین یہ نئی کشیدگی ایسے وقت پر دیکھنے میں آئی، جب اسرائیل کی طرف سے یہ کہا گیا کہ کل بدھ کے روز خان یونس میں اس کے فوجیوں پر پھر فائرنگ کی گئی تھی۔

رات کے وقت سردی کی وجہ سے ایک خیمے میں آگ جلا کر بیٹھے ہوئے فلسطینی
رات کے وقت سردی کی وجہ سے ایک خیمے میں آگ جلا کر بیٹھے ہوئے فلسطینیتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس فائرنگ میں کوئی اسرائیلی فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا مگر جمعرات کو جو نئے فضائی حملے کیے گئے، وہ اسی فائرنگ کا ردعمل تھے۔

خان یونس میں ناصر ہسپتال کے اہلکاروں نے بتایا کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے 17 ایسے افراد کی لاشیں اس ہسپتال میں لائی گئیں، جن میں پانچ خواتین اور پانچ بچے بھی شامل تھے۔

اسی دوران حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی غزہ پٹی کی وزارت صحت کی طرف سے بتایا گیا کہ تازہ فضائی حملوں میں ایسے خیموں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگ کی وجہ سے بے گھر ہو جانے والے فلسطینی خاندان مقیم تھے۔

غزہ پٹی میں جنگ کی وجہ سے تباہ شدہ عمارات کی ایک تصویر
اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے غزہ پٹی کا تقریباﹰ سارے کا سارا علاققہ بری طرح تباہ ہو چکا ہےتصویر: Ramadan Abed/REUTERS

دریں اثناء غزہ پٹی کے سب سے بڑے شہر غزہ سٹی میں بھی ایک عمارت پر اسرائیل نے دو فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان ہلاک شدگان میں سات بچے اور تین خواتین بھی شامل تھیں۔

غزہ سٹی میں ان 16 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق اس شہر کے شمالی حصے میں واقع اس الشفاء ہسپتال کی انتظامیہ نے بھی کر دی ہے، جہاں ان ہلاک شدگان کی لاشیں لائی گئیں۔

مختلف نیوز ایجنسیوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ان تازہ فضائی حملوں میں درجنوں ہلاکتوں کو ’’اندھا دھند قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں پر کوئی فائرنگ نہیں کی تھی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button