
یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران عہدیدار کایا کالاس نے مطالبہ کیا ہے کہ کییف حکومت اور یورپی یونین کو روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
برسلز میں جمعرات 20 نومبر کو ہونے والے یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کایا کالاس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی امن منصوبے کے قابل عمل ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اس میں کییف حکومت اوریورپی یونین کی رضا مندی بھی شامل ہو۔‘‘

کایا کالاس نے کہا، ’’ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس جنگ میں ایک فریق جارحیت کا مرتکب ہوا ہے اور دوسرا اس جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔ ہم نے اب تک اس سلسلے میں روس کی طرف سے دی جانے والی کسی بھی ممکنہ رعایت یا لچک کا کوئی ذکر نہیں سنا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اگر روس اس جنگ میں واقعی قیام امن کا خواہاں ہے، تو اسے فوری اور غیر مشروط فائر بندی کی تجویز شروع میں ہی قبول کر لینا چاہیے تھی۔‘‘
اسی بارے میں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے برسلز میں ہی کہا، ’’یوکرینی جنگ کے خاتمے اور قیام امن کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ یوکرین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے۔‘‘



