یورپتازہ ترین

کییف اور یورپ کو لازمی طور پر کسی بھی یوکرینی امن معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے، یورپی یونین کا مطالبہ

’’اگر روس اس جنگ میں واقعی قیام امن کا خواہاں ہے، تو اسے فوری اور غیر مشروط فائر بندی کی تجویز شروع میں ہی قبول کر لینا چاہیے تھی۔‘‘

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران عہدیدار کایا کالاس نے مطالبہ کیا ہے کہ کییف حکومت اور یورپی یونین کو روسی یوکرینی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

برسلز میں جمعرات 20 نومبر کو ہونے والے یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کایا کالاس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی امن منصوبے کے قابل عمل ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اس میں کییف حکومت اوریورپی یونین کی رضا مندی بھی شامل ہو۔‘‘

یوکرینی شہر ٹرنوپل میں بڑے روسی فضائی حملوں کے بعد فائر بریگیڈ کے کارکن آگ بجھاتے ہوئے
یوکرینی شہر ٹرنوپل میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات میزائلوں اور جنگی ڈرونز کے ساتھ کیے گئے بڑے روسی فضائی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے تھےتصویر: Rostyslav Kovalchuk/AP Photo/picture alliance

کایا کالاس نے کہا، ’’ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اس جنگ میں ایک فریق جارحیت کا مرتکب ہوا ہے اور دوسرا اس جارحیت کا نشانہ بنا ہے۔ ہم نے اب تک اس سلسلے میں روس کی طرف سے دی جانے والی کسی بھی ممکنہ رعایت یا لچک کا کوئی ذکر نہیں سنا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اگر روس اس جنگ میں واقعی قیام امن کا خواہاں ہے، تو اسے فوری اور غیر مشروط فائر بندی کی تجویز شروع میں ہی قبول کر لینا چاہیے تھی۔‘‘

اسی بارے میں فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے برسلز میں ہی کہا، ’’یوکرینی جنگ کے خاتمے اور قیام امن کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ یوکرین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button