صحتتازہ ترین

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں ڈاؤ یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں کا سنگین اسکینڈل بے نقاب

3,023 نئے ملازمین بھرتی کیے گئے، جن میں سے صرف 54 مستقل ملازمین تھے۔ باقی ملازمین کو کانٹریکٹ، ڈیلی ویجز یا دیگر عارضی بنیادوں پر رکھا گیا تھا

سید ارمغان ظفر.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

کراچی: سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے ایک اہم اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جعلی ڈگریوں کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کا سنگین اسکینڈل سامنے آ گیا ہے، جس نے نہ صرف یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے، بلکہ بھرتی کے عمل اور داخلی نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ انکشاف ایک آڈٹ رپورٹ کے ذریعے ہوا، جس نے سندھ حکومت اور ڈاؤ یونیورسٹی کے متعلقہ حکام کے لیے پریشانیوں کو جنم دیا ہے۔

پی اے سی اجلاس کی تفصیلات

پی اے سی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین نثار کھوڑو نے کی، جبکہ اراکین قاسم سومرو اور طٰحہ احمد بھی اجلاس میں شریک تھے۔ کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے والی آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں اس وقت 3,500 سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، جن میں سے صرف 450 ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں تصدیق شدہ ہیں، جبکہ باقی ہزاروں ملازمین کی اسناد کی تصدیق کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ یہ صورتحال انتظامی غفلت اور سنگین بے ضابطگیوں کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔

ملازمین کی بھرتی اور کانٹریکٹ کی تفصیلات

اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں تقریباً 2,500 ملازمین کانٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر ملازمین مختلف بنیادوں پر بھرتی کیے گئے ہیں۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس کے مطابق، جولائی 2021 سے جون 2025 کے دوران 3,023 نئے ملازمین بھرتی کیے گئے، جن میں سے صرف 54 مستقل ملازمین تھے۔ باقی ملازمین کو کانٹریکٹ، ڈیلی ویجز یا دیگر عارضی بنیادوں پر رکھا گیا تھا۔ پی اے سی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب ادارے کی تنخواہوں پر سالانہ 2 ارب 33 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہوں تو اتنی بڑی تعداد میں غیر تصدیق شدہ ملازمین کا ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں کا انکشاف

ڈگری ویریفکیشن کے عمل کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی میں 10 ملازمین کی ڈگریاں جعلی تھیں۔ ان ملازمین میں مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد شامل تھے، جنہوں نے جعلی ڈگریوں پر ملازمت حاصل کی۔ کچھ اہم مثالیں درج ذیل ہیں:

  • سید فرخ حسین: 2015 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ریسپشنسٹ بھرتی ہوئے۔

  • سید کاشف حسین: 2019 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ پر ریسپشنسٹ تعینات ہوئے۔

  • نبیل احمد: 2024 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر کانٹریکٹ پر ریسپشنسٹ بھرتی ہوئے۔

  • محمد اویس: 2015 میں جعلی بی ایس کمپیوٹر سائنس ڈگری پر سینئر ڈیٹا پروسیسنگ افسر بھرتی ہوئے۔

  • مرزا عاطف بیگ: 2008 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر سینئر کمپیوٹر آپریٹر بھرتی ہوئے۔

  • محمد فہد: 2015 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر سینئر کمپیوٹر آپریٹر کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔

  • فیضان علی: 2015 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ایڈمنسٹریٹو اسسٹنٹ مقرر ہوئے۔

  • عبدالناصر: 1988 میں بی کام کی جعلی ڈگری پر ایڈمنسٹریٹو افسر بھرتی ہوئے۔

  • بدر مجاہد: 2021 میں بی اے کی جعلی ڈگری پر اسسٹنٹ تعینات ہوئے۔

  • ریاض احمد: 2024 میں ایم کام کی جعلی ڈگری پر بلنگ افسر بھرتی ہوئے۔

یہ انکشافات یونیورسٹی کی انتظامیہ کی غفلت اور بھرتیوں کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کا غماز ہیں۔

یونیورسٹی کی جانب سے اقدامات

ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے اجلاس میں کہا کہ جعلی ڈگریوں والے 10 میں سے 8 ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی 2 ملازمین کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور انہیں بھی جلد برطرف کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق کا عمل تیز رفتاری سے جاری ہے اور مستقبل میں کوئی بھی بھرتی صرف تصدیق شدہ ڈگریوں کے ساتھ کی جائے گی۔

پی اے سی کا شدید ردعمل

پی اے سی نے جعلی بھرتیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر بھرتیاں نہ صرف مالی بے ضابطگیوں کو جنم دیتی ہیں بلکہ سرکاری اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ڈگری ویریفکیشن کے عمل میں تاخیر یا غفلت پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

کمیٹی نے سندھ بھر کی تمام سرکاری جامعات کو حکم دیا کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنے تمام ملازمین و افسران کی تعلیمی اسناد کی ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) سے تصدیق کروائیں۔ اس کے ذریعے جعلی بھرتیوں، جعلی تنخواہوں اور محکمانہ بدعنوانیوں کی روک تھام کی جا سکے گی۔

آگے کا لائحہ عمل

پی اے سی نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک تعلیمی اسناد کی تصدیق مکمل نہیں ہو جاتی، سرکاری اداروں میں بھرتیاں روک دی جانی چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت نے یونیورسٹیوں میں نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے بھی ڈگری ویریفکیشن کے عمل کو لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سرکاری اداروں میں ملازمت کے لیے صرف اہل اور تصدیق شدہ افراد کو منتخب کیا جائے۔

نتیجہ

ڈاؤ یونیورسٹی میں جعلی ڈگریوں کے ذریعے بھرتیوں کا اسکینڈل نہ صرف ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے، بلکہ یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ پاکستان میں تعلیمی اسناد کی تصدیق کے عمل میں سنجیدگی سے غفلت برتی جا رہی ہے۔ پی اے سی کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے گی، اور سرکاری اداروں میں بھرتی کا عمل شفاف اور قابلِ اعتبار بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button