
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے جرمن حکومت کو ایک اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سابق افغان مقامی عملے کے تحفظ کے لیے طالبان حکومت کو رقم کی پیشکش کرے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کر کے ان سابق افغان ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنائے، جو کبھی جرمنی کی سرکاری خدمات میں کام کرتے تھے اور اب افغانستان میں طالبان حکومت کے انتقامی اقدامات سے خوفزدہ ہیں۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان افراد میں سے بہت سے لوگ پاکستان میں پناہ گزین ہو چکے ہیں، اور پاکستان انہیں افغانستان واپس بھیجنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
خواجہ آصف کا بیان اور مشورہ
خواجہ محمد آصف نے بدھ کے روز جرمن اخبار "دی ویلٹ” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "یقیناً آپ انہیں ایک دن میں افغانستان واپس بھیج کر سزائے موت نہیں دلوا سکتے۔ اگر جرمنی ان افراد کی حفاظت چاہتا ہے تو اسے طالبان سے بات چیت کرنی ہوگی۔ طالبان سے مذاکرات میں رقم کی پیشکش ان لوگوں کی حفاظت کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے۔” وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ان افراد کی زندگیوں کو بچانے کے لیے جرمنی کو فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر جرمنی ان افراد کو قبول نہیں کرتا تو پاکستان انہیں افغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو گا۔
پاکستان کا جرمنی کو ڈی پورٹیشن کی دھمکی
پاکستان کی حکومت نے جرمن حکام کو رواں سال کے آخر تک اپنے سابق افغان ملازمین کو جرمنی میں داخلے کی اجازت دینے کی مہلت دی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر جرمنی اپنے سابق ملازمین کو پناہ نہیں دیتا تو پاکستان انہیں افغانستان واپس بھیج دے گا، جہاں طالبان حکومت کی طرف سے ان افراد کو بدلے کی کارروائی کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، "یہ معاملہ اتنا سادہ ہے کہ اگر جرمنی ان افراد کو قبول نہیں کرتا تو ہم انہیں واپس بھیج دیں گے۔”
افغان پناہ گزینوں کا جرمنی میں داخلے کا عمل
پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں سے بیشتر افراد نے جرمنی میں پناہ لینے کے لیے درخواست دی ہے۔ منگل کو اسلام آباد سے ایک چارٹر فلائٹ پر مزید افغان شہری جرمنی پہنچے، جنہوں نے جرمنی میں پناہ کی اجازت حاصل کر رکھی تھی۔ اس کے علاوہ، کئی افغان افراد ابھی تک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں اور جرمنی کے داخلے کے منتظر ہیں۔ ان افراد میں جرمن مسلح افواج کے سابق مقامی عملے کے علاوہ جج، وکلاء، صحافی اور دیگر افغان شہری شامل ہیں، جنہوں نے مغربی ممالک کی حمایت کی تھی اور اب طالبان حکومت کے انتقامی ردعمل سے خوفزدہ ہیں۔
مقامی عملے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی مدد
جرمنی کے ایوینجلیکل چرچ نے بھی ان افغان پناہ گزینوں کے لیے معاونت کا اعلان کیا ہے۔ منگل کو چرچ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ گرجا گھروں میں جمع کیے گئے چندے سے ایک لاکھ یورو فراہم کرے گا تاکہ ان افغانوں کی قانونی لڑائی کے اخراجات پورے کیے جا سکیں جو خطرے میں ہیں اور جرمنی میں پناہ کی درخواست کر رہے ہیں۔ چرچ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ان افراد کی قانونی کارروائیوں میں ان کی مدد کرے گا تاکہ انہیں تحفظ حاصل ہو سکے۔
جرمنی کی موجودہ صورتحال
اس وقت تقریباً دو ہزار افراد اس معاملے میں شامل ہیں، جن میں سابق مقامی عملہ، جج، وکلاء اور صحافی شامل ہیں، جو طالبان حکومت کے انتقامی کارروائیوں کا شکار ہونے کے خوف سے افغانستان سے بھاگ کر پاکستان پہنچے ہیں۔ ان افراد کی زندگیوں کو طالبان کے ہاتھوں خطرہ ہے، کیونکہ طالبان نے ان افراد کو دشمن سمجھا ہے جو مغربی ممالک کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔ اب جرمنی کو ان افراد کی حفاظت کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔
پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات
پاکستان اور جرمنی کے درمیان یہ معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے حساس ہے۔ جرمنی نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وہاں موجود اپنے شہریوں اور مقامی عملے کو نکالنے کے لیے متعدد اقدامات کیے تھے، لیکن اب پاکستانی حکومت پر زور دے رہی ہے کہ وہ ان افراد کو واپس افغانستان بھیجنے کی دھمکی دے کر ان کی حفاظت کی کوشش کرے۔ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جرمنی کو چاہیے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کرے اور ان افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے رقم کی پیشکش کرے تاکہ انہیں افغانستان میں بدلے کی کارروائیوں سے بچایا جا سکے۔
نتیجہ
یہ صورتحال نہ صرف افغان پناہ گزینوں کے لیے سنگین چیلنجز پیش کر رہی ہے، بلکہ عالمی سطح پر طالبان حکومت کے رویے اور اس کے اثرات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ جرمنی اور پاکستان دونوں کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ان افراد کی زندگیوں کو بچایا جا سکے اور انہیں پناہ دینے والے ملک میں محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان نے جرمنی کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اگر جرمنی ان افراد کو قبول نہیں کرتا تو پاکستان انہیں افغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو گا، جہاں ان کی زندگیوں کو طالبان کے ہاتھوں خطرہ ہے۔



