پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب کا ’ستھرا پنجاب‘ ماڈل عالمی توجہ کا مرکز — فوربز کی تفصیلی رپورٹ کے بعد حکومت کا بڑا دعویٰ

اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نظام شہری علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ دیہی علاقے بھی اس میں شامل ہیں جہاں آج تک کوئی منظم صفائی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

امریکی جریدے فوربز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں پنجاب کے صوبہ گیر صفائی نظام ’ستھرا پنجاب‘ کو ایک بڑی انتظامی تبدیلی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صوبے نے صرف آٹھ ماہ میں ایسا ڈیجیٹل اور مربوط ماڈل قائم کیا ہے جس نے برسوں سے چلے آنے والے صفائی کے بحران کو پہلی بار عملی اور سائنسی بنیادوں پر سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔

فوربز کے مطابق، پنجاب روزانہ تقریباً 50 ہزار ٹن کچرا ایک ایسے مرکزی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت سنبھال رہا ہے جو شہر سے لے کر دور ترین دیہات تک پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں پہلے چھوٹے چھوٹے ادارے، کمزور نگرانی اور بکھرا ہوا ڈھانچہ صفائی کا مسئلہ حل نہیں کر سکے تھے، وہیں اب ایک مربوط چین کے ذریعے ہر گاڑی، ہر بِن اور ہر ورکر کی نقل و حرکت مرکزی کنٹرول روم میں دیکھی جا سکتی ہے۔

سرکاری سطح پر اس رپورٹ کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس خبر پر ’لافنگ ایموجیز‘ بھی گردش کر رہے ہیں جہاں بہت سے صارفین اسے مبالغہ آرائی قرار دے رہے ہیں۔


فوربز: پنجاب نے روایتی طریقے بدل کر صفائی کو ایک سائنسی ماڈل میں ڈھالا

فوربز کا کہنا ہے کہ پنجاب نے چھوٹے تجربات کرنے کے بجائے ایل اینتھ اسکیل پر پورے صوبے میں نیا ڈھانچہ نافذ کیا، اور اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ نظام شہری علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ دیہی علاقے بھی اس میں شامل ہیں جہاں آج تک کوئی منظم صفائی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام — گاڑیاں، بِنز، ورکرز سب ایک اسکرین پر

رپورٹ کے مطابق،

  • ہر گاڑی کی لوکیشن

  • ہر بِن کی بھراؤ سطح

  • کچرے کی یومیہ مقدار

  • ٹرانسفر اسٹیشنز کی سرگرمیاں

  • لینڈفل سائٹس تک نقل و حرکت

  • صفائی ورکرز کی حاضری

سب کچھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ ادائیگیوں اور ٹھیکوں کا انحصار بھی کارکردگی سے جڑا ہے تاکہ محض کاغذی رپورٹنگ کے بجائے حقیقی کام نظر آسکے۔ فوربز کے مطابق یہی خصوصیت اس ماڈل کو دنیا میں منفرد بناتی ہے۔


ستھرا پنجاب کا باضابطہ آغاز — لاہور سے صوبے بھر تک

یہ پروگرام دسمبر 2024 میں لاہور سے شروع ہوا اور پھر مرحلہ وار دیگر بڑے شہروں، اضلاع اور تحصیلوں تک پھیل گیا۔
اس دوران:

  • صفائی ورکرز کی بھرتیاں کی گئیں،

  • نئی گاڑیاں اور مشینری شامل کی گئی،

  • ٹرانسفر اسٹیشنز قائم کیے گئے،

  • ڈیجیٹل کنٹرول رومز فعال ہوئے۔

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری: ”یہ کچرے کا پورا سفر ہے“

عظمیٰ بخاری کے مطابق:

”چھوٹی گاڑیوں اور رکشوں سے گھر گھر کچرا اٹھاناشروع ہوتا ہے، پھر یہ ٹرانسفر اسٹیشن تک جاتا ہے جہاں پہلی چھانٹی ہوتی ہے۔ اس کے بعد کچرا لینڈفل، ری سائیکلنگ یا ویسٹ ٹو انرجی کے منصوبوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ کنٹرول رومز میں ڈیجیٹل ڈیش بورڈز پر روزانہ کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ شکایات موبائل ایپ اور ہیلپ لائن کے ذریعے موصول ہوتی ہیں اور انہیں مقررہ وقت میں حل کرنا لازمی ہوتا ہے۔


’سبز روزگار‘ — صفائی کے شعبے میں ہزاروں نئی نوکریاں

ستھرا پنجاب پروگرام کے نتیجے میں:

  • صفائی ورکرز

  • ڈرائیورز

  • سپروائزرز

  • مشینری آپریٹرز

  • ڈیجیٹل مانیٹرنگ اسٹاف

کے لیے بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا ہوئیں۔ان روزگاروں کو ’سبز روزگار‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ ماحولیات اور صحتِ عامہ سے جڑے ہیں۔ مستقبل میں اس روزگار کے دائرے کا ری سائیکلنگ انڈسٹری، ویسٹ پارکس، ڈیٹا تجزیہ اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں تک بھی بڑھنے کا امکان ہے۔


صوبہ گیر صفائی فیس — ”کوڑا ٹیکس“ متعارف

اس پروگرام کے ساتھ سب سے اہم پالیسی تبدیلی صفائی فیس کا نفاذ ہے، جسے عوام میں ”کوڑا ٹیکس“ کہا جا رہا ہے۔

شہری علاقوں کی فیس

  • 5 مرلہ گھر: 300 روپے ماہانہ

  • 10 مرلہ: 500 روپے

  • 1 کنال: 1,000 روپے

  • 2 کنال: 2,000 روپے

  • اس سے بڑے گھر: 5,000 روپے

دیہی علاقوں کی فیس

  • 2 سے 5 مرلہ: 200 روپے

  • بڑے گھر: 400 روپے

کاروبار، دکانیں، صنعتیں اور فیکٹریاں بھی اپنے سائز و سرگرمی کے مطابق مقرر فیس ادا کریں گی۔

حکومت کے مطابق اس فیس کا مقصد صفائی کے نظام کو مالی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔


پانچ رنگوں کے لازمی کوڑا دان — کچرے کی تقسیم گھر کے دروازے پر

حکومت نے حال ہی میں بڑے شہروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور تجارتی مراکز میں پانچ مخصوص رنگوں کے کوڑا دان لازمی قرار دے دیے ہیں تاکہ کچرے کی پہلے مرحلے پر ہی درجہ بندی ہو سکے۔

  • پیلا — کاغذ، کارٹن

  • سبز — شیشہ، بوتلیں

  • خاکستری/جامنی — گیلہ کچرا، فوڈ ویسٹ

  • سرخ — دھاتی اشیاء

  • نارنجی — پلاسٹک

اس کا مقصد ری سائیکلنگ کی استعداد بڑھانا اور لینڈفل کا بوجھ کم کرنا ہے۔


ستھرا پنجاب اتھارٹی — مستقل ادارہ سازی کی طرف قدم

پنجاب حکومت اب ایک مستقل ادارہ ’ستھرا پنجاب اتھارٹی‘ قائم کرنے جا رہی ہے۔ اس کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر مستقل بنیادوں پر قائم کرنا ہے۔


نتیجہ

فوربز کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ پنجاب نے صفائی کو ایک تکنیکی، ڈیجیٹل اور مربوط ماڈل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جو نہ صرف انتظامی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ مستقبل میں روزگار، ماحولیات اور شہری سہولیات میں بھی بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔

حکومت اسے تاریخی کامیابی قرار دے رہی ہے، جبکہ عوامی رائے میں اس پر تنقید اور طنز دونوں موجود ہیں۔
مگر یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ پنجاب پہلی بار صفائی کو صرف جھاڑو اور ٹرک کے بجائے ٹیکنالوجی اور حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button