
پاکستان کے صوبہ سندھ میں ڈی جی رینجرز سندھ کی زیر صدارت سیکیورٹی کانفرنس میں کراچی کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی جائزہ
اس اہم اجلاس میں کراچی کے موجودہ سیکیورٹی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور شہر میں امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔
احسان احمد-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
کراچی: رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں ڈی جی رینجرز سندھ کی زیر صدارت ایک اہم سیکیورٹی کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں کراچی کی موجودہ امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کا مقصد کراچی سمیت صوبے بھر میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانا اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے موثر حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
کانفرنس میں شریک اہم شخصیات
اجلاس میں سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی، جن میں کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی پولیس، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) اور دیگر متعلقہ حکام شامل تھے۔ اس اہم اجلاس میں کراچی کے موجودہ سیکیورٹی حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور شہر میں امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔
کراچی کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی جائزہ
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق، اجلاس میں کراچی میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، جرائم اور شرپسندی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشنز کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی حکمت عملی وضع کی، تاکہ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا سکیں۔
کراچی کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایات
اجلاس میں کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ شہر میں غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل اور دہشت گردوں کی ممکنہ آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے، تاکہ ان تنصیبات کو دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سرچ اور کومبنگ آپریشنز کو بڑھانے کی تجویز
اجلاس میں کراچی سمیت صوبے بھر میں سرچ اور کومبنگ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ ان آپریشنز کے ذریعے مشتبہ افراد اور مجرموں کی تلاش کی جائے گی، تاکہ جرائم کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ اس کے علاوہ، آئی بی اوز (Intelligence Based Operations) میں بھی اضافہ کرنے کی بات کی گئی تاکہ دہشت گردوں کی سازشوں کو قبل از وقت ناکام بنایا جا سکے۔
بھتہ خوری، اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور دیگر جرائم کیخلاف سخت کارروائیاں
اجلاس میں کراچی میں بھتہ خوری، اسلحے کی غیر قانونی ترسیل اور دیگر جرائم کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس ضمن میں ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا جس کے تحت رینجرز اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں فعال ہوں گی تاکہ ان جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔
غیر تصدیق شدہ بھتہ خوری رپورٹس کا سدباب
دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے غیر تصدیق شدہ بھتہ خوری کی رپورٹس میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اس مسئلے کے سدباب کے لیے قانونی اقدامات تجویز کیے گئے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ عوامی آگاہی کے ذریعے ان جھوٹی رپورٹس کو روکنے کی کوشش کی جائے۔
عادی مجرموں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی تجویز
اس موقع پر یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عادی مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں، تاکہ ان افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے اور شہر کی سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
عوام سے تعاون کی اپیل
اجلاس کے اختتام پر رینجرز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، شرپسند عناصر یا ناخوشگوار واقعے کی فوری اطلاع قریبی رینجرز اہلکاروں یا ہیلپ لائن پر دیں۔ اس کے علاوہ، عوام کو رینجرز کے واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر بھی مشکوک افراد یا واقعات کی اطلاع دینے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، تاکہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون مزید بہتر بنایا جا سکے۔
آئندہ اقدامات
اس کانفرنس کے بعد، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین آپس میں مزید تعاون اور ہم آہنگی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، کراچی میں سیکیورٹی کی صورت حال میں بہتری لانے کے لیے مزید سرچ آپریشنز، چیکنگ اور قانونی کارروائیاں کی جائیں گی تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، تاکہ کراچی میں جرائم کی شرح کو کم کیا جا سکے اور شہر میں امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔
اس تفصیلی اجلاس کا مقصد کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا اور اس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے عملی اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ امید کی جاتی ہے کہ ان اقدامات سے کراچی میں امن کا ماحول قائم ہو گا اور شہریوں کی زندگی میں تحفظ کا احساس بڑھایا جائے گا۔



