اہم خبریںبین الاقوامی

صدر پوٹن کا بھارت دورہ: روسی دفاعی معاہدے، ایس-400 اور ایس-500 خریداری، اور پاکستان پر ممکنہ اثرات

روس بھارت کو ایس یو-57 ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے فروخت کرنا چاہتا ہے، جو کہ پاکستان کے چین سے حاصل کردہ جے-35 سٹیلتھ طیاروں کے جواب میں بھارت کی اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔

نئی دہلی:روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا بھارت کا حالیہ دورہ جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹیکل صورتحال میں اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پوٹن کا دورہ بظاہر بھارت اور روس کے روایتی سفارتی تعلقات کا تسلسل ہے، مگر خطے میں بڑی تبدیلیوں کے پیشِ نظر اس کا اثر صرف بھارت یا روس تک محدود نہیں بلکہ پاکستان، امریکہ اور چین بھی اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

بھارت اور روس کے دفاعی معاہدے: ایس-400 اور ایس-500

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر پوٹن کا دورہ بھارت کے لیے ایک اہم موقع ہوگا کہ وہ روس سے مزید ایس-400 میزائل سسٹمز خریدنے اور ایس-500 دفاعی نظام کے حوالے سے معاہدوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کرے۔
صوبی دفاعی اور دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کی اسٹریٹجک دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور پاکستان کے تناظر میں اس کے دفاعی توازن کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہے۔

اس کے علاوہ، روس بھارت کو ایس یو-57 ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے فروخت کرنا چاہتا ہے، جو کہ پاکستان کے چین سے حاصل کردہ جے-35 سٹیلتھ طیاروں کے جواب میں بھارت کی اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہوں گے۔

پاکستانی نقطہ نظر: دفاعی اور سفارتی اثرات

سابق سفیر اور پاکستان کی جوہری دفاعی حکمت عملی کے ماہر ضمیر اکرم کے مطابق، روس اور بھارت کے نئے دفاعی معاہدے پاکستان کی دفاعی حکمت عملی پر زیادہ اثر نہیں ڈالیں گے۔
ضمیر اکرم نے کہا:

"تاریخی طور پر پاکستان کی دفاعی ضروریات امریکہ اور بعد میں چین نے پوری کی ہیں۔ روس اور بھارت کے درمیان نئے دفاعی معاہدے معمول کی سرگرمی ہیں اور کسی بھی طرح پاکستان کے جدید دفاعی سسٹمز کو متاثر نہیں کریں گے۔”

پاکستان کے لیے اس دورے کا اہم پہلو یہ ہوگا کہ وہ بھارت کی امریکہ اور روس کے درمیان اسٹریٹجک بیلنس کی حکمت عملی کو بغور مانیٹر کرے۔ بھارت کو مغربی ممالک اور امریکہ کے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات تیل، دفاع اور تجارتی شعبوں میں مضبوط ہیں۔

افغانستان اور خطے کی جیوپولیٹیکل تبدیلیاں

صدر پوٹن کے دورے کے دوران پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ روس اور بھارت افغانستان کے معاملے پر کس حد تک شراکت داری کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت کی کابل کے ساتھ قربت میں اضافہ، جبکہ روس نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے، پاکستان کے لیے نگران امور میں شامل ہیں۔

تاہم ضمیر اکرم کا کہنا ہے کہ:

"روس کا فوکس بنیادی طور پر دفاعی اور تجارتی تعلقات پر ہے، نہ کہ کابل کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے پر۔”

امریکی تعلقات اور بھارت کی اسٹریٹجک پوزیشن

خطے میں تین بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں:

  1. روس اور امریکہ، چین اور امریکہ، اور روس اور چین نئے انداز میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

  2. پاکستان اپنی سفارتی پوزیشن میں بھارت کے مقابلے میں مضبوط ہے، خاص طور پر مئی 2025 کی فوجی جھڑپ کے بعد۔

  3. پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہیں، جبکہ بھارت کے کابل سے روابط بہتر ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے باوجود مکمل ہم آہنگی نہیں، تاہم بھارت امریکی کمپنی GE ایروسپیس کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت اپنے مقامی تیار کردہ تیجس لڑاکا طیاروں کے لیے امریکی جیٹ انجن حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان کے لیے ممکنہ فوائد

ماہرین کے مطابق، بھارت اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات میں اضافہ دراصل پاکستان کے لیے ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان ایک وقت میں چین اور امریکہ کے ساتھ مضبوط سفارتی تعلقات رکھتا ہے، جبکہ بھارت مغربی ممالک کے دباؤ اور روسی بلاک میں شراکت داری کے پیچیدہ حالات سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں امریکہ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تجارتی تعاون بڑھا سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو گا۔

نتیجہ

صدر پوٹن کا دورہ بھارت ایک روایتی سفارتی عمل کے طور پر سامنے آیا ہے، مگر جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورتحال، روس-بھارت دفاعی تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور امریکی دباؤ کے تناظر میں یہ دورہ پاکستان کے لیے بھی محتاط نگرانی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دفاعی معاہدے پاکستان کے نظام پر زیادہ اثر نہیں ڈالیں گے، مگر خطے میں طاقت کے توازن کی سمجھ بوجھ کے لیے اہم ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button