اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

لاہور: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پیرا فورس کا اہم اجلاس— شفافیت، تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی سروس میں انقلابی اصلاحات کی منظوری

وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران فورس کی بہتری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے کئی فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کیا

انصار ذاہد.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پیرا فورس کی کارکردگی، نگرانی، ترقیاتی اصلاحات اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے ایک خصوصی اور طویل دورانیے کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیرا فورس سے متعلق ورکنگ، عوامی شکایات، آپریشنل خامیوں، دستیاب وسائل، رسپانس سسٹم اور مستقبل کی ضروریات پر اعلیٰ سطح کی بریفنگ پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران فورس کی بہتری اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی کے لیے کئی فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کیا، جنہیں شرکا نے صوبے میں سروس ڈلیوری بہتر بنانے کے لیے تاریخی اقدامات قرار دیا۔

شفافیت میں اضافہ — اہلکاروں کے لیے باڈی کیمرے لازم

اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ پیرا فورس کے ہر اہلکار کو باڈی کیمرے فراہم کرنے کا تھا۔ اجلاس کے دوران پیش کی گئی پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ ماضی میں متعدد شکایات بدسلوکی، غیر مناسب رویے اور کارروائیوں میں شفافیت نہ ہونے سے متعلق موصول ہوتی رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ فورس کے ہر آپریشن کو 100 فیصد ریکارڈ کرنا لازمی ہوگا تاکہ نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہو بلکہ اہلکاروں کو بھی احساس رہے کہ ان کی تمام کارروائیاں مانیٹر ہو رہی ہیں۔

مریم نواز نے واضح کیا کہ باڈی کیمروں کا استعمال دنیا بھر میں لا انفورسمنٹ کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور پنجاب بھی اس جدید نظام کو اپنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام رشوت، اختیارات کے غلط استعمال اور غلط الزامات کے امکانات کو ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔

خصوصی اور جدید ٹریننگ سیشنز — اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ

اجلاس میں پیرا فورس کے اہلکاروں کی مہارتوں کو بین الاقوامی معیار تک لے جانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تربیت کے نظام میں اخلاقیات، شہریوں کے ساتھ برتاؤ، ذہنی دباؤ میں کام کرنے کی صلاحیت، جدید ٹیکنیکل مہارتوں اور ایمرجنسی رسپانس کے طریقہ کار کو شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہنے والے عملے کا رویہ وہ پہلا تاثر ہوتا ہے جو کسی بھی ادارے کی اصل شناخت بناتا ہے۔ اگر اہلکار مؤثر، شائستہ اور ذمہ دار ہوں تو عوام کا اعتماد دوگنا ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پیشہ ورانہ تربیت وہ بنیاد ہے جس پر عوامی سروس کا معیار کھڑا ہوتا ہے۔”

الیکٹرک وہیکلز کا استعمال — ماحول دوست اصلاحات کی طرف اہم قدم

فورس کے آپریشنز کو ماحول دوست بنانے کے لیے اجلاس میں الیکٹرک وہیکلز کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف کم شور پیدا کرتی ہیں بلکہ ان کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار اضافے کے باعث سرکاری اخراجات متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیاں نہ صرف اخراجات کم کریں گی بلکہ جدید، تیز رفتار اور مؤثر ٹرانسپورٹ فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ایسی اصلاحات پر یقین رکھتی ہے جو پائیدار (Sustainable) ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔

اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ سنٹر کا قیام — جدید تربیت کا نیا دور

اجلاس میں ایک جامع اور جدید تربیتی مرکز کے قیام کی بھی اصولی منظوری دے دی گئی۔ یہ مرکز نہ صرف نئے اہلکاروں کی ٹریننگ کے لیے ہوگا بلکہ موجودہ عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کرے گا۔

اس تربیتی مرکز میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ٹولز، ایمرجنسی سمیولیشنز، اعتماد سازی کورسز، اخلاقی تربیت اور عالمی معیار کے ٹریننگ ماڈیول شامل کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ "ہم ایسا سسٹم بنانا چاہتے ہیں جو وقت کے ساتھ بہتر ہو، کمزور نہ ہو۔”

پیرا فورس کی موجودہ کارکردگی کا اعتراف — مگر مزید بہتری کی ضرورت

اجلاس میں مریم نواز شریف نے پیرا فورس کی موجودہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورس کے اہلکار عوام کو سہولت فراہم کر کے اپنی ساکھ بہتر بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ اصل کامیابی کارکردگی میں مستقل بہتری، شفافیت اور شہریوں کے بھرپور اعتماد کے حصول سے مشروط ہے۔

انہوں نے کہا کہ "جو ادارے عوام کی زندگی آسان بناتے ہیں، ان کی خدمات کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ ہم پیرا فورس کو ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو آنے والے برسوں تک ترقی کی علامت رہے۔”

فوری عملدرآمد کی ہدایات

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ آج کیے گئے فیصلوں پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ایک جامع پلان تیار کرنے اور اگلے اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button