
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
استنبول میں جاری اہم مذاکرات میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو اپنا حتمی اور جامع مؤقف پیش کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے مذاکرات میں واضح کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی جاری سرپرستی اور اُن کے محفوظ ٹھکانوں کی اجازت ناقابل قبول ہے اور اس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول مذاکرات سے قبل 18 اور 19 اکتوبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پہلے دور کے مذاکرات ہوئے تھے۔ اس دوران، دونوں ممالک نے سرحد پر ایک ہفتے تک جاری شدید اور خونریز جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ مذاکرات کے پہلے دور میں فالو اپ ملاقاتوں کے انعقاد پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی تاکہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی نگرانی پائیدار اور قابلِ اعتماد ہو۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ پاک-افغان معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی سرحدی دراندازی نہیں ہوگی، اور جب تک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغانستان سے طالبان کی مدد سے پاکستان پر حملے کرتی رہی ہے، تاہم کابل نے پہلے ہی اس الزام کی تردید کی ہے۔
پاکستان کا مؤقف: دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری
پاکستانی وفد نے مذاکرات کے دوران زور دیا کہ افغانستان سے اور اندرونِ ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طالبان حکومت کو ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔ وفد نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کے مطالبات شواہد پر مبنی ہیں اور مسئلے کا حقیقی حل فراہم کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے طالبان کے غیر منطقی دلائل اور زمینی حقائق سے متصادم موقف کو بھی بے نقاب کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جو افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں۔
طالبان دلائل غیر منطقی، مذاکرات میں پیش رفت افغان طالبان کے رویے پر منحصر
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں۔ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ پاکستانی وفد نے کہا کہ مذاکرات میں مزید پیش رفت صرف افغان طالبان کے مثبت اور سنجیدہ رویے پر منحصر ہے۔
پاکستانی وفد نے میزبان ملک کے مذاکرات کاروں کو بھی آگاہ کیا کہ مذاکرات میں مزید پیش رفت کا انحصار افغان طالبان کے مثبت اور سنجیدہ رویے پر ہے۔ طالبان کی ہٹ دھرمی، سنجیدگی کی کمی اور عدم تعاون کا رویہ نہ صرف پاکستانی وفد بلکہ مذاکراتی عمل کے دیگر شرکاء بالخصوص میزبان ملک کے لیے بھی واضح ہو گیا ہے۔
پاکستان کی عسکری کارروائیاں
پاکستان نے واضح کیا کہ سرحد پار دہشت گردی اور پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے خلاف ہمارے بنیادی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے میزبان ملک سے بھرپور تعاون کی درخواست کی تاکہ طالبان کے وفد کو حقیقت کو سمجھنے، شواہد کو تسلیم کرنے اور سنجیدگی کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے افغان علاقوں کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، اور جارحیت کرنے والی کئی افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں متعدد افغان طالبان ہلاک ہوئے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا اور پاکستان میں دہشت گرد حملوں کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ ناکامی اور پسپائی پر افغان طالبان حکومت نے پاکستان سے فوری جنگ بندی کی استدعا کی، جس پر پاکستان نے 15 اکتوبر کو 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا، اور طالبان نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی۔
افغان طالبان کے رویے اور خطے کے استحکام کے خطرات
پاکستانی وفد کے مطابق، طالبان کی موجودہ ہٹ دھرمی اور مذاکراتی رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ پاکستانی وفد نے تاکید کی کہ اگر طالبان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو مذاکرات کا مثبت نتیجہ ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری
مذاکرات میں پاکستان نے میزبان ملک کی مدد سے طالبان کے وفد کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی، قابل تصدیق اقدامات کریں۔ پاکستانی وفد نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد صرف کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ مستقل امن اور خطے میں پائیدار سکیورٹی قائم کرنا ہے۔
نتائج اور توقعات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد کا مؤقف شفاف، واضح اور شواہد پر مبنی ہے اور یہ مذاکرات میں طالبان کی غیر سنجیدہ پالیسی کے باوجود خطے کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ مذاکرات کا آئندہ مرحلہ افغان طالبان کے رویے اور تعاون پر منحصر ہے، اور پاکستان کسی بھی صورت میں اپنی سرحدوں اور ملکی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔



