
سید ارمغان ظفر.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ڈیرہ بگٹی: انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں حکومت کی مؤثر حکمت عملی کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان (بی آر اے) کے اہم کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور اس کے 74 ساتھیوں نے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ واقعہ پاکستان ہاؤس سوئی، ضلع ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا، جہاں معززین، مقامی رہنماؤں اور میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی میں دہشت گردوں نے سرینڈر کیا۔
ہتھیار ڈالنے کا عمل:
سرینڈر کرنے والے دہشت گردوں نے پاکستان ہاؤس میں اپنے ہتھیار اور گولہ بارود بھی جمع کرایا، جس کی نگرانی پاکستان ہاؤس کے کیئر ٹیکر میر آفتاب بگٹی اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی نے کی۔ اس موقع پر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے نہ صرف اپنے ہتھیار ڈالے، بلکہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے چاکرانی امن فورس کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
اس اہم پیشرفت کا رخ اس بات کی طرف موڑ رہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں قیام امن کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ وڈیرہ نور علی چاکرانی کا سرینڈر اور ان کے ساتھیوں کا ہتھیار ڈالنا بلوچستان میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک سخت پیغام ہے، جو ریاست کے خلاف سرگرم ہیں۔
حملے کی کوشش:
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھی پاکستان ہاؤس سوئی پہنچے اور ہتھیار ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا، تو بی آر اے کے شرپسندوں نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور نور علی چاکرانی اور ان کے ساتھیوں کو کسی نقصان کے بغیر پاکستان ہاؤس تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔
سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی:
سیکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی اور کارروائیوں کے باعث دہشت گردوں کا ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنا ممکن ہوا ہے۔ اس واقعے کو بلوچستان میں جاری سیکیورٹی صورتحال میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے ہتھیار ڈالنے کا یہ عمل اس بات کا غماز ہے کہ ریاست کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں اپنے اثرات دکھا رہی ہیں اور بلوچستان میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
چاکرانی امن فورس کا قیام:
وڈیرہ نور علی چاکرانی کا اعلان کردہ "چاکرانی امن فورس” نہ صرف ڈیرہ بگٹی بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک نیا آؤٹ لک پیش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فورس کا مقصد علاقے میں امن کی فضا قائم کرنا، ریاست کے قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے۔ چاکرانی امن فورس کے قیام سے بلوچستان میں فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف ایک اور مضبوط دیوار کھڑی ہو گی۔
ڈیرہ بگٹی میں موجودہ امن و امان:
یہ سرینڈر ڈیرہ بگٹی میں موجودہ امن و امان کی صورتحال میں ایک اہم پیشرفت ہے۔ حالیہ برسوں میں بلوچستان کے مختلف حصوں میں دہشت گرد گروہ سرگرم رہے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں اور حکومتی پالیسیوں کے باعث دہشت گردوں کی پوزیشن کمزور پڑی ہے اور اب انہیں ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
یہ واقعہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ بلوچستان میں امن قائم کرنے کی ریاست کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔
بلوچستان میں دیگر دہشت گرد گروپوں کے لیے پیغام:
وڈیرہ نور علی چاکرانی اور اس کے ساتھیوں کا سرینڈر بلوچستان میں سرگرم دیگر دہشت گرد گروپوں کے لیے ایک سنگین پیغام ہے کہ ریاست اپنے اقدامات میں غیر متزلزل ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی قسم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس سرینڈر کے بعد یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ دیگر دہشت گرد گروہ بھی ریاست کے سامنے ہتھیار ڈال کر اپنے اقدامات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
حکومت کا ردعمل:
حکومت کی جانب سے اس سرینڈر کو ایک بڑی کامیابی اور سیکیورٹی فورسز کی محنت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے اس طرح کے اقدامات مسلسل جاری رہیں گے اور جو گروہ اپنی سرگرمیاں ترک کر کے ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے، ان کے ساتھ مذاکرات اور ان کی اصلاحات کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سرینڈر سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بلوچستان میں امن کے لیے ریاست کی حکمت عملی کامیاب ہو رہی ہے، اور اس میں سیکیورٹی فورسز، مقامی حکومتوں اور شہریوں کی شمولیت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔



