پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

رائل نیوی آف عمان کا فلوٹیلا کراچی پہنچا، پاک عمان بحری شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں

دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے پر زور دیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

رائل نیوی آف عمان کا فلوٹیلا جس میں ویسلز "الرشیخ” اور "الشینا” شامل ہیں، نے کراچی کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ سابق تھمار الطیب 2025 کے 12ویں ایڈیشن کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پاک عمان کی بحری شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان نیوی کے سینئر حکام کی جانب سے روایتی استقبال

کراچی کی بندرگاہ پر رائل نیوی آف عمان کے جہازوں کا روایتی استقبال کیا گیا، جس میں پاکستان نیوی (پی این) کے سینئر حکام اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اس دوران عمان نیوی کے جہازوں کی آمد پر نہ صرف پروٹوکول دیا گیا بلکہ دونوں ممالک کے افسران اور اہلکاروں کے درمیان خوشگوار ماحول میں ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ پاکستان نیوی کی جانب سے عمان نیوی کے اہلکاروں کو ان کے دورے کے حوالے سے خوش آمدید کہا گیا اور دونوں بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے پر زور دیا گیا۔

پاک عمان کی بحری شراکت داری

رائل نیوی آف عمان اور پاکستان نیوی کے درمیان طویل عرصے سے ایک مضبوط دفاعی شراکت داری قائم ہے۔ دونوں ممالک کی بحری افواج باہمی تعاون، مشترکہ مشقوں، اور تعاون کے دیگر شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان تعلقات کو مزید فروغ دینا اور دونوں افواج کے درمیان رابطے کو مستحکم کرنا ہے۔

پاکستان نیوی کے سینئر حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عمان کی بحری افواج کے ساتھ اس شراکت داری کی اہمیت میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون صرف دفاعی نوعیت کا نہیں بلکہ اقتصادی اور انسانی امداد کے شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سابق تھمار الطیب 2025: ایک مشترکہ مشق

اس دورے کے دوران رائل نیوی آف عمان کے جہازوں کی شرکت سابق تھمار الطیب 2025 کے 12ویں ایڈیشن ہے، جو دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں کا ایک حصہ ہے۔ اس مشق کا مقصد نہ صرف دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے بلکہ بحری آپریشنز کی جدید تربیت فراہم کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے اہلکاروں کو تیار کرنا ہے۔ اس مشق میں عمان اور پاکستان کی بحری افواج مشترکہ حکمت عملی پر عمل کریں گی اور مختلف بحری آپریشنز کی مشق کریں گی۔

پیشہ ورانہ تبادلے اور مشترکہ سمندری مراحل

مشق TAT-2025 میں دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تبادلے کے علاوہ مشترکہ سمندری آپریشنز بھی شامل ہیں۔ اس مشق میں دونوں افواج کے اہلکاروں کے درمیان ایک دوسرے کی جدید آپریشنل تکنیکوں اور حکمت عملیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے دونوں ممالک کے بحری افسران اور اہلکاروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا، جو مستقبل میں کسی بھی بحرین یا خلیج میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

علاقائی اور عالمی سطح پر استحکام

مشق TAT-2025 صرف پاکستان اور عمان کی بحری افواج کے لیے ایک پیشہ ورانہ مشق نہیں ہے بلکہ یہ مشق پورے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کا یہ تعاون علاقائی سمندری سلامتی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا اور بحرین، خلیج فارس، اور جنوبی ایشیا کے دیگر اہم سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

دورے کا مقصد اور اہمیت

رائل نیوی آف عمان کا یہ دورہ نہ صرف پاک عمان دفاعی تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بحری شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے۔ پاکستان اور عمان کے درمیان دفاعی تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے کے مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر ہے، اور دونوں ممالک کی بحری افواج کی مشترکہ مشقیں اور تجربات کا تبادلہ اس شراکت داری کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

دفاعی تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات

اس دورے کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ یہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان آپریشنل تعاون کو بڑھا رہا ہے۔ عمان نیوی کی مشقوں میں شرکت اور پاکستان نیوی کے ساتھ مشترکہ آپریشنز دونوں ممالک کے لیے نہ صرف فوجی تعلقات کی مضبوطی بلکہ بحرین، خلیج فارس، اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ شراکت داری دونوں ممالک کے تجارتی راستوں کی حفاظت، سمندری دہشت گردی کے خلاف مشترکہ آپریشنز، اور بین الاقوامی امن کی کوششوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان نیوی اور عمان کی رائل نیوی کا عزم

پاکستان نیوی اور رائل نیوی آف عمان کی اس مشترکہ مشق میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں افواج نے اپنے تعلقات کو نہ صرف فوجی سطح پر بلکہ اقتصادی اور انسانی امداد کے شعبوں میں بھی مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کی بحری افواج کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا اور بین الاقوامی سطح پر بحری امن کے لیے دونوں افواج کا تعاون بڑھانا ہے۔

پاکستان نیوی کی جانب سے مزید منصوبے

پاکستان نیوی کے سینئر افسران نے اس موقع پر عمان نیوی کے اہلکاروں کو پاکستان نیوی کے مختلف آپریشنز اور منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ پاکستان نیوی کے حکام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ عمان نیوی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے اقدامات اٹھائیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان بحری آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے جدید تربیتی پروگرامز کا آغاز کریں گے۔

نتیجہ:

رائل نیوی آف عمان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے اور پاک عمان بحری شراکت داری کی مزید مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی افواج کے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر بحری سلامتی کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button