
برلن: جرمنی کی معیشت اس وقت اپنے تاریخ کے سب سے سنگین بحران سے گزر رہی ہے، جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا اقتصادی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک صنعتی گروپ نے اس سلسلے میں چانسلر فریڈرش میرس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر بحالی کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
معیشت میں مسلسل گراوٹ کا سامنا
جرمنی، جو یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر جانا جاتا ہے، اس وقت متعدد اقتصادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، جس نے صنعتکاروں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس کے علاوہ، جرمن مصنوعات کی طلب میں کمی، چین کے صنعتی حریف کے طور پر ابھرنے، اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات نے بھی معیشت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جرمنی گزشتہ دو سال سے کساد بازاری کی لپیٹ میں ہے، اور 2025 میں بھی معیشت میں صرف معمولی نمو کی توقع کی جا رہی ہے۔
بی ڈی آئی کی جانب سے شدید تنقید
جرمن انڈسٹریز فیڈریشن (بی ڈی آئی) کے صدر پیٹر لائبنگر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے معاشی مسائل کے حل کے لیے اقدامات بہت سست ہیں۔ ان کے مطابق، ”یورپ کی سب سے بڑی معیشت بڑے پیمانے پر گراوٹ کا شکار ہے، مگر وفاقی حکومت ابھی تک فیصلہ کن اقدامات نہیں کر رہی ہے۔” لائبنگر نے مزید کہا کہ جرمن معیشت وفاقی جمہوریہ کے قیام کے بعد کے سب سے سنگین بحران سے گزر رہی ہے، اور اس کے جواب میں وفاقی حکومت نے ابھی تک بھرپور عزم کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، ”جرمنی کو اب مقابلے کی صلاحیت اور ترقی کے لیے واضح ترجیحات کے ساتھ معاشی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے فیصلہ کن اصلاحات فوری طور پر ضروری ہیں۔” بی ڈی آئی کی تازہ ترین رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2025 میں جرمنی کی فیکٹریوں کی پیداوار میں مزید دو فیصد کمی ہو گی، جو مسلسل چوتھے سال گراوٹ ہے۔
صنعتی شعبے پر اثرات
جرمنی کی بھاری صنعتیں، جیسے گاڑیوں کی تیاری، فیکٹری مشینری اور اسٹیل کی پیداوار، ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بی ڈی آئی کے مطابق، ملک میں ایک لاکھ سے زائد مختلف سائز کی مینوفیکچرنگ کمپنیاں موجود ہیں جو آٹھ ملین سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، یہ تمام کمپنیاں اب سنگین مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، اور اگر حکومت فوری اقدامات نہیں کرتی تو یہ شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے بھی خدشات
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی جرمن حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف نے کہا کہ چانسلر میرس کی جانب سے متعارف کرائے گئے بڑے پیمانے پر سرکاری اخراجاتی منصوبے اکیلے معیشت کی بحالی کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ’’ترقی کے فروغ‘‘ کے لیے اصلاحات نافذ کرے تاکہ معیشت کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
چانسلر میرس کی جانب سے دفاعی موقف
چانسلر فریڈرش میرس نے گزشتہ ہفتے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو واپس صحیح سمت میں لانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ انہوں نے ایمپلائرز ایسوسی ایشن کے ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ”جرمنی کوئی اسپیڈ بوٹ نہیں، جرمنی ایک بہت بڑا جہاز ہے۔” انہوں نے مزید کہا، ”اتنے بڑے جہاز کا رخ چند دنوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اسپیڈ بوٹ 180 ڈگری کا فوری موڑ لیتی ہے، لیکن بڑے جہاز کو اس میں وقت لگتا ہے۔”
امید کی کرن: 2026 میں معاشی بحالی کی توقع
اگرچہ جرمنی کی معیشت اس وقت بحران کا شکار ہے، لیکن کچھ ماہرین کو توقع ہے کہ 2026 میں معیشت میں بحالی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ حکومت نے 2025 میں 1.3 فیصد کی شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے، اور امید کی جارہی ہے کہ جیسے ہی عالمی اقتصادی حالات میں بہتری آئے گی، جرمنی بھی اپنی معیشت کو دوبارہ بہتر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
نتیجہ: فوری اقدامات کی ضرورت
جرمنی کی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ حکومتی اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ اقتصادی بحران سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔ بی ڈی آئی اور آئی ایم ایف کی تنقید کے بعد یہ بات واضح ہے کہ جرمنی کے لیے اب صرف حکومتی اخراجات نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی پالیسی کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔



