
سید عاطف ندیم.پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف پاکستان فوج کے ترجمان، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید اعتراض کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں نے پشاور میں اپنے عوامی جلسے میں ایک قرارداد منظور کی، جس میں عمران خان کی رہائی اور ان کے ساتھ ملاقاتوں پر عائد کی گئی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
گزشتہ جمعہ کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے پاکستان کو درپیش اندرونی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک "شخصیت اور سوچ” ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، جو سمجھتا ہے کہ "میں نہیں تو کچھ بھی نہیں”۔ ان کا اشارہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب تھا، تاہم انہوں نے عمران خان کا نام لینے سے گریز کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ سوچ ہے جو ایک فرد کی ذات پر مرکوز ہے، جس کا خیال ہے کہ اگر وہ موجود نہیں تو پاکستان کی سیاسی صورت حال متاثر ہو جائے گی۔
پی ٹی آئی کی قرارداد
اس بیان کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے پشاور میں اپنے عوامی اجتماع کے دوران ایک قرارداد منظور کی، جس میں ان الزامات کو مسترد کیا گیا کہ عمران خان یا ان کے ساتھی "قومی سلامتی کے لیے خطرہ” ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت کسی بھی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کی حمایت نہیں کرتی، اور یہ کہ ان کے رہنماؤں کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں پر لگائی گئی پابندیوں کو فوراً ختم کیا جائے۔ پی ٹی آئی نے ان الزامات کی بھی سختی سے تردید کی کہ ان کے کارکن اور رہنما کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں، اور کہا کہ یہ سب صرف سیاسی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔
گورنر راج کی مخالفت
قرارداد میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بارے میں بھی شدید احتجاج کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ گورنر راج کے نتیجے میں کسی بھی حکومت کا قیام عوام کی نظر میں غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کسی صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کرے گی، تو اس سے صرف سیاسی اور سماجی انتشار میں اضافہ ہوگا۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات
پی ٹی آئی نے اپنے قرارداد میں افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تجارت کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور باہمی فائدے کا راستہ کھل سکے۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تنازعات کو سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا ردعمل
اس دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر ایک اور الزام عائد کیا ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی "دشمن کے آلہ کار” بن چکی ہے اور انہوں نے ان الزامات کی تائید کی کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے غیر ملکی عناصر سے مدد لے رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی قیادت کے خلاف فوجی قیادت کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے، جو کہ پاکستان کی فوج کے خلاف ایک سنگین سازش کا حصہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جس فوج نے اپنے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، وہ فوج جو بھارت کے سامنے سینہ سپر ہوئی، اس فوج کو برا بھلا کہنا انتہائی افسوسناک ہے۔”
سیاسی محاذ پر کشیدگی
پاکستان میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، اور ہر طرف پی ٹی آئی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور ان کی قیادت میں عوامی حمایت کا دعویٰ کر رہی ہے، تو دوسری طرف حکومتی عہدیدار ان پر ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی صورتحال میں مزید پیچیدگیاں اور انتشار بڑھتا جا رہا ہے، جس کے اثرات ملک کے داخلی اور خارجی تعلقات پر بھی پڑ رہے ہیں۔
عوامی جلسے اور سیاسی چیلنجز
پی ٹی آئی کا پشاور میں ہونے والا عوامی جلسہ اسی سیاسی محاذ کی ایک اہم کڑی تھی، جس میں پارٹی نے نہ صرف اپنے سیاسی موقف کا اعادہ کیا بلکہ وفاقی حکومت کے اقدامات اور فوجی قیادت کے بیانات کو بھی چیلنج کیا۔ اس جلسے میں پارٹی رہنماؤں نے اپنے حامیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی اور یہ پیغام دیا کہ وہ موجودہ حکومت کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کے لیے تیار ہیں۔
آگے کا راستہ
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اس وقت گہرے تقسیم اور کشیدگی کا سامنا ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جاری اس لڑائی کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر فوج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات میں مزید تلخی آئے۔
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے داخلی سیاسی منظرنامے پر اثرانداز ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سیاسی استحکام کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ایک بار پھر حکومت کے اقدامات اور فوج کے بیانات کے خلاف اپنے مؤقف کو واضح کیا ہے، اور اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور فوج پی ٹی آئی کے اس چیلنج کا کس طرح جواب دیتی ہے۔



