اہم خبریںیورپ

جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فیہول کا چین پر یوکرین میں جنگ بندی کے لیے روس پر اثر ڈالنے پر زور

وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے اگر اس اثرورسوخ کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

برلن: جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈے فیہول نے اتوار کے روز چین کے دورے سے قبل ایک اہم بیان میں کہا کہ چین کو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے روس پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا چاہیے۔ جرمن وزیر نے بیجنگ روانگی سے قبل برلن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی اور ملک روس پر چین جتنا اثر نہیں رکھتا، اور چین کی مدد سے ہی ماسکو کو یوکرین کی خودمختاری کا احترام کرنے اور ایک حقیقی مذاکراتی عمل کے لیے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کردار: عالمی امن کے لیے موقع

یوہان واڈے فیہول نے کہا کہ جرمنی کے مفاد میں یہ ہے کہ چین یوکرین میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ چین کے پاس روس کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنا پر اس جنگ میں مداخلت کرنے کا منفرد موقع موجود ہے۔ وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے اگر اس اثرورسوخ کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

مغربی دنیا نے چین پر بارہا یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ روس کی جنگی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے، لیکن بیجنگ نے ہمیشہ اپنے موقف کو ’’غیر جانب دار‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یوکرین اور روس کے درمیان کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کرتا۔ وزیرِ خارجہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ چین اس تنازعے میں خود کو غیر جانب دار قرار دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے چین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اثر کا استعمال کر کے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

چین اور جرمنی کے تعلقات: اقتصادی اور سٹرٹیجک پہلو

یوہان واڈے فیہول نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران چین کے ساتھ رابطہ رکھنا جرمنی کے لیے ضروری ہے، کیونکہ جرمنی کی آزادی، سلامتی اور خوشحالی بڑی حد تک چین سے جڑی ہوئی ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور جرمنی کے لیے ایک اہم تجارتی شریک ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت کا عنصر پایا جاتا ہے، اور یہ تعلقات عالمی سطح پر مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

جرمن وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ چین کی جانب سے نایاب دھاتوں کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے، جو کہ جرمن صنعت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ نایاب دھاتیں جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس اور دیگر اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں، اور ان کی فراہمی میں خلل جرمنی کی صنعتی پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

چین کے ساتھ تجارت: نیا دور، نئے چیلنجز

چین اور جرمنی کے تعلقات میں اقتصادی ترقی اور تجارتی تعلقات کی اہمیت پہلے ہی نمایاں ہے، مگر اب چین کی نایاب دھاتوں کی برآمدات پر پابندیوں کے معاملے نے اس تعلق کو ایک نیا موڑ دیا ہے۔ چین نے حالیہ برسوں میں ان دھاتوں کی برآمدات پر کنٹرول کو سخت کیا ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک کی صنعتوں میں رکاوٹ آئی ہے۔

جرمنی کی صنعتوں کے لیے نایاب دھاتوں کی برآمدات پر پابندیاں ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں، اور یوہان واڈے فیہول نے چین سے اس بارے میں بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دھاتوں کی فراہمی کی مسلسل کمی سے جرمنی کی صنعتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی تناؤ آ سکتا ہے۔

چین کے ساتھ مزید اقتصادی تعلقات: نئی راہیں

جرمنی کے وزیرِ خارجہ کا دورہ چین ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر چین اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چین کی عالمی تجارتی حکمت عملی، اس کی نایاب دھاتوں کی برآمدات پر کنٹرول، اور یوکرین جنگ کے حوالے سے اس کا غیر جانب دار موقف، ان تمام عوامل نے چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یوہان واڈے فیہول نے کہا کہ چین کے ساتھ بات چیت کا مقصد صرف اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا نہیں ہے، بلکہ عالمی سطح پر مشترکہ مسائل پر تعاون بڑھانا بھی ہے۔ ان کے مطابق، چین کے ساتھ زیادہ مستحکم تعلقات جرمنی کے لیے عالمی سطح پر مزید استحکام اور خوشحالی کا باعث بن سکتے ہیں۔

چین میں متوقع ملاقاتیں

جرمن وزیرِ خارجہ اپنے دورے کے دوران بیجنگ میں چین کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔ ان میں وزیرِ خارجہ وانگ ژی، نائب صدر ہان ژینگ، تجارتی وزیر وانگ وینتاؤ اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سفارتی اہلکار لیو ہائی شنگ شامل ہیں۔ یہ ملاقاتیں چین اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات اور عالمی سطح پر مشترکہ مسائل پر بات چیت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

یورپی اور عالمی سطح پر چین کا اثر

جرمنی کے وزیرِ خارجہ کی اس اپیل کا عالمی سطح پر ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ چین نے یوکرین جنگ کے حوالے سے ہمیشہ اپنے موقف کو غیر جانب دار رکھا ہے، لیکن اس کے عالمی اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کے کردار کو عالمی سطح پر بے حد اہمیت دی جاتی ہے۔ چین کے روس کے ساتھ تعلقات اور اس کے عالمی تجارتی اثرات کی بنا پر جرمنی جیسے یورپی ملک کو چین سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

یورپ میں چین کے ساتھ تعلقات کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہو گا کہ دونوں فریق کس طرح مشترکہ مفادات اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون کرتے ہیں۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ کی بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے نتائج اس بات کو مزید واضح کریں گے کہ چین اور جرمنی کے تعلقات کس طرف جا رہے ہیں اور ان تعلقات کے عالمی سیاست اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button