
ملک کی تاریخ میں پہلی بار سیلاب متاثرین کی تلاش کے لیے تھرمل امیجنگ ڈرونز کا کامیاب استعمال — مریم نواز کی ہدایت پر جدید ٹیکنالوجی کا انقلابی قدم
یہ پہلا موقع ہے کہ قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو منظم اور سائنسی بنیادوں پر استعمال کیا گیا ہے
لاہور سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس اف جرمنی:
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محصور افراد اور لائیوسٹاک کی نشاندہی کے لیے تھرمل امیجنگ ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال کیا گیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر شروع کیے گئے اس جدید ریسکیو پروگرام کو مختلف اضلاع میں زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے، جسے ماہرین ایک "ریسکیو ریولوشن” قرار دے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کو منظم اور سائنسی بنیادوں پر استعمال کیا گیا ہے، جو نہ صرف متاثرین کی فوری نشاندہی بلکہ ریسکیو آپریشن کی بروقت کامیابی میں بھی معاون ثابت ہوا۔
جھنگ میں ڈرونز کی مدد سے پانچ افراد اور مویشیوں کو بچا لیا گیا
جھنگ کے علاقے سیمی پل بائی پاس، سرگودھا روڈ اور ملحقہ مقامات پر آنے والے شدید سیلابی ریلوں کے بعد کئی دیہات زیرِ آب آ گئے تھے۔ ریسکیو ٹیموں کو جب زمینی راستے سے متاثرہ افراد تک رسائی ممکن نہ رہی، تو تھرمل امیجنگ ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔
ڈرون کیمروں نے سیلابی پانی میں گھرے پانچ افراد اور متعدد مویشیوں کی واضح تھرمل نشاندہی کی، جس کے بعد لوکیشن ٹریس کرتے ہوئے ریسکیو ٹیم فوری طور پر کشتیوں کے ذریعے متاثرہ مقام پر پہنچی اور تمام افراد اور جانوروں کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
چشتیاں اور بہاولنگر میں بھی ڈرونز کی کامیاب تعیناتی
جنوبی پنجاب کے علاقوں چشتیاں اور بہاولنگر کی دریائی بیلٹس میں شدید بارشوں اور دریا کے پانی کی طغیانی کے بعد متعدد دیہات میں رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ان دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بھی تھرمل امیجنگ ڈرونز کے ذریعے نگرانی کا عمل جاری ہے۔
سیلابی پانی میں گھرے متاثرین کی نشاندہی کے بعد ریسکیو بوٹس کو فوری طور پر روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو بروقت نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ تھرمل ڈرونز کی مدد سے ریسکیو ٹیموں کو یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ پانی میں کہاں مویشی موجود ہیں، تاکہ انہیں بھی زندہ بچایا جا سکے۔
ڈرون سرویلنس: سیلابی ریسپانس کا نیا معیار
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ:
"ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید ٹیکنالوجی کا مکمل استعمال کیا جائے گا۔ ڈرونز کی مدد سے ریسکیو آپریشنز میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی عوامی خدمت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔”
انہوں نے محکمہ ریسکیو، ضلعی انتظامیہ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ٹیمز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس ماڈل کو پورے پنجاب میں وسعت دینے کی ہدایت کی۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کی حکمت عملی
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے ذریعے تھرمل امیجنگ ایک گیم چینجر ٹیکنالوجی ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں انسانی رسائی ممکن نہیں یا تاخیر کا خطرہ ہوتا ہے۔
ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا:
"تھرمل امیجنگ ڈرونز کی مدد سے نہ صرف متاثرین کی شناخت ممکن ہوئی، بلکہ ہم نے ہر مقام پر بروقت کارروائی کر کے قیمتی جانوں کو بچایا۔ یہ ماڈل دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔”
نتیجہ: عوامی خدمت میں جدید ٹیکنالوجی کا انقلابی آغاز
پنجاب میں سیلاب کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی کے کامیاب استعمال نے نہ صرف بروقت ریسکیو آپریشن کو ممکن بنایا بلکہ حکومت کی عوامی فلاحی حکمت عملی میں ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) کی جھلک بھی دکھائی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت نے ثابت کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو عوامی مفاد میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ اقدام مستقبل میں قدرتی آفات کے دوران فوری ردعمل، کم نقصان اور محفوظ انخلا کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔



