پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے انڈین حمایت یافتہ عناصر سرگرم ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر

ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، جی ایچ کیو میں بلوچستان سے متعلق 18ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز آئی ایس پی آر کے ساتھ

چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انڈیا کے حمایت یافتہ پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد، بدامنی اور خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ صوبے کے ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ان مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور بلوچستان کو دہشت گردی اور عدم استحکام سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں بلوچستان سے متعلق 18ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے ملاقات اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی، درپیش چیلنجز اور پاکستان کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت کا جامع جائزہ لینا تھا۔

بلوچستان کی اہمیت اور عوام کی قربانیاں

اپنے خطاب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے بلوچستان کے عوام کی استقامت، قربانیوں اور حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی خوشحالی، ترقی اور علاقائی روابط کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی جغرافیائی، معاشی اور معدنی صلاحیتیں پورے ملک کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کے بغیر پاکستان کی مجموعی ترقی ممکن نہیں، اور اس مقصد کے لیے صوبے کے عوام کو ترقی کے ثمرات میں شریک کرنا ناگزیر ہے۔

حکومتی اقدامات اور ترقیاتی حکمتِ عملی

چیف آف آرمی سٹاف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں شروع کیے گئے ہمہ جہت ترقیاتی اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ پر مبنی پالیسیوں کا مقصد صوبے کے سماجی و معاشی حالات کو بہتر بنانا اور عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا ہے۔

انہوں نے عوامی فلاح پر مبنی حکمتِ عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی وسیع معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

سول سوسائٹی اور منفی پروپیگنڈا

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سول سوسائٹی، دانشوروں، میڈیا اور نوجوانوں کے تعمیری کردار کو بھی سراہا، خصوصاً منفی پروپیگنڈے کا مؤثر اور حقیقت پر مبنی جواب دینے میں۔ ان کا کہنا تھا کہ گمراہ کن بیانیے اور مفروضوں کے مقابلے میں حقائق، شفافیت اور عوامی آگاہی پائیدار ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کا کردار بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور عوام کو قومی دھارے میں مضبوطی سے شامل کرنے میں نہایت اہم ہے۔

سیاسی مفادات اور قومی ترجیحات

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے زور دیا کہ
’مفاد پرستانہ اور تنگ نظر سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کا مستقبل اس کے تمام باشندوں کی طویل المدت خوشحالی، امن اور استحکام کی بنیاد پر تشکیل پا سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کو ذاتی یا گروہی مفادات پر ترجیح دیے بغیر صوبے کے مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں۔

سکیورٹی چیلنجز اور سخت مؤقف

سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ انڈیا کے حمایت یافتہ پراکسی عناصر بلوچستان میں دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جن کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا اور عوام میں خوف پھیلانا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھیں گی اور صوبے کو بدامنی سے پاک کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔

علاقائی امن اور قومی سلامتی

علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے واضح کیا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی قسم کی، خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ، خلاف ورزی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار اور پرعزم ہیں۔

سوال و جواب کا سیشن

نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں ورکشاپ کے شرکا نے بلوچستان کی ترقی، سکیورٹی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق سوالات کیے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے اور بلوچستان میں جاری سکیورٹی و ترقیاتی کوششوں پر مزید روشنی ڈالی۔

سیاسی و سکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں ترقی اور امن کو درپیش چیلنجز کے ساتھ ساتھ علاقائی سکیورٹی صورتحال بھی خاصی حساس ہے، اور ریاستی اداروں کی جانب سے واضح مؤقف اور جامع حکمتِ عملی کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button